ایران 19 تاریخی مقامات نیلام کیوں کرنا چاہتا ہے؟

اقتصادی پابندیوں کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ایران انٹرنیٹ پر اپنے قدیم ترین تاریخی خزانوں میں سے کچھ کو نیلام کر رہا ہے۔رطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق وزارت ثقافتی ورثہ، سیاحت اور دستکاری کی جانب سے 22 مئی کو 19 مقامات فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

قلعہ راین:اس فہرست میں شامل اہم عمارتوں میں سے ایک راین کا قلعہ ہے۔ یہ صوبہ کرمان میں واقع مٹی کی اینٹوں سے بنا قلعہ ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1,000 سال پرانا ہے۔

فہرست میں ایک اور سائٹ قاجار کے امیر ناصر الدین مرزا کی رہائش گاہ ہے۔ یہ عمارت 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلوی اور قاجار خاندان کی ملکیتی بہت سی دوسری عمارتوں کی طرح ضبط کر لی گئی تھی، اور اب یہ حکومت کی ملکیت ہے۔

نیلامی کی ایک اور وجہ ان مقامات کی بحالی بھی ہے۔ وسائل کی کمی اور بگڑتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ملک کے بہت سے تاریخی اور ثقافتی مقامات معدوم ہورہے ہیں۔

کچھ اثاثے نیلام کریں:ایران بہت سے دوسرے سرکاری اثاثوں کے ساتھ اپنے کچھ جزائر اور تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان کو فروخت کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہا ہے۔

اقتصادی پابندیوں اور ستمبر 2022 کے وسط میں کرد نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کی وجہ سے ایرانی ریال حال ہی میں اپنی کم ترین تاریخی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

مہنگائی کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے، اور حالات خراب ہونے سے کم از کم نصف ملک خط غربت سے نیچے جا چکا ہے۔بہت سے لوگوں خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے چین جیسے ممالک کی طرف سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے جو پابندیوں کی حمایت نہیں کرتے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading