ایران کے بحری ڈرونز تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

ایران کے جانب سے بحری حملہ آور ڈرونز، جنہیں خودکش ڈرون بھی کہا جاتا ہے، کا استعمال اس تنازع کی غیر متوازن نوعیت کی ایک اور مثال ہے اور ساتھ ہی یہ یوکرین کی روس کے خلاف جنگ سے مماثلت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

ایران دہائیوں سے بغیر پائلٹ کے چلنے والے بحری ہتھیار تیار کر رہا تھا، اسے معلوم تھا کہ اس کی بحریہ کو سمندر میں اپنے سے زیادہ طاقتور امریکی فورسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کی روایتی بحریہ کا بڑا حصّہ اب خلیج فارس یا بحیرۂ ہند کی تہہ میں ڈوب چکا ہے، ایسے میں دھماکہ خیز مواد سے لدے بحری ڈرونز کا استعمال ہمیشہ سے متوقع تھا۔

انھیں صرف ایک ہی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے: دفاعی اقدامات سے بچتے ہوئے تیز رفتار سے بڑے بحری جہازوں سے ٹکرانا اور ہدف کو ناکارہ یا تباہ کر دینا۔

یوکرین نے گذشتہ چار برسوں کے دوران اپنے بحری ڈرونز تیار کیے ہیں اور انھیں بحیرۂ اسود میں روسی جہازوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر ایسے ہی ڈرونز موجود ہیں۔

اگر وہ انھیں تباہی سے بچا سکا تو دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں تباہی مچانے کی اس کی صلاحیت کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ایران کی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کچھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس مقصد کے لیے وہاں موجود تھیں۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’کچھ ممالک نے ہم سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے بات چیت کی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے ایران کے خلاف ’جارحیت میں حصہ‘ لیا انھیں ’یہاں سے گزرنے کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔‘ماجد تخت روانچی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جنگ کو دوبارہ ان پر ’مسلط‘ نہ کیا جا سکے۔

’جب گذشتہ برس جون میں جنگ شروع ہوئی تو 12 دن کے بعد حملے بند ہو گئے تھا لیکن پھر آٹھ، نو مہینے بعد انھوں (امریکہ اور اسرائیل) نے خود کو یکجا کیا اور دوبارہ حملے کیے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading