’ایران پر حالیہ پابندیاں امریکی حکام کی مایوسی کا مظہر‘

امریکی کبھی مذاکرات کے لیےقابلِ اعتبار نہیں رہے ہیں اور نہ وہ مستقبل میں کبھی ایسے ہوں گے۔ یہ بات ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن اور جوہری کمیٹی کے چئیرمین محمد ابراہیم رضائی نے اتوار کو ایک بیان میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایران کے خلاف امریکا کی حالیہ پابندیاں امریکی حکام کی مایوسی اور تشویش کی مظہر ہیں‘‘۔

انھوں نے ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ( ایسنا) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ امریکا اپنی بین الاقوامی شہرت کھو چکا ہے اور امریکی حکومت کے حکام بھی اپنی قدر کھو چکے ہیں‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کی ایران کے خلاف تدبیریں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں۔

ایران کے رپبرِ اعلیٰ اور دوسرے عہدے داروں کے خلاف امریکا کی حالیہ پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ابراہیم رضائی نے کہا کہ’’اس طرح کے اقدامات ان کی مایوسی اور بے چینی کی حالت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کے تمام اقدامات اور الفاظ ایک دوسرے سے باہم متصادم ہیں‘‘۔

امریکا نے حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دوسرے عہدے داروں کے خلاف نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔علی خامنہ ای نے 20 جون کو جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے سے تہران میں ملاقات کے موقع پر اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا اور امریکا کے اقدامات کو مایوسی کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ جاپانی وزیراعظم نے اس ملاقات میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک پیغام پہنچایا تھا۔

اس پر علی خامنہ ای کا کہنا تھا:’’ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسی شخصیت خیال نہیں کرتا ہوں ، جس کے ساتھ پیغامات کا کوئی تبادلہ کیا جاسکے۔مجھے ان کے پیغام کا کوئی جواب نہیں دینا ہے اور نہ انھیں کوئی جواب دوں گا‘‘۔

بشکریہ، العربیہ ڈاٹ نیٹ

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading