امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز ایران سے چھوڑے گئے ڈرون نے بحر ہند میں ایک کیمیائی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ کیم پلوٹو نامی جہاز پر ‘انڈین ساحل سے 200 ناٹیکل میل (یعنی 370 کلومیٹر) دور مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے ڈرون سے نشانہ بنایا گيا ہے۔
جہاز میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ایران نے اس حملے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔فلسطین اور اسرائیل میں جاری حالیہ جنگ کے بعد حال ہی میں یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مال بردار جہاز کو بحیرہ احمر سے دور بحر ہند میں نشانہ بنایا گيا ہے۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ ایک دوسرے واقعے میں سنیچر کے ہی روز ‘یمن کے حوثی زیر کنٹرول علاقوں سے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستے میں دو حوثی اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغے گئے لیکن ان میں کسی بحری جہاز کے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔’
اس نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں گشت کرنے والے یو ایس ایس لیبون جنگی جہاز نے ‘یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے نکلنے والے چار بغیر پائلٹ والے ڈرون کو مار گرایا جن کا رخ امریکی بحری جہاز کی طرف تھا۔’
اسی دن دیر گئے خام تیل لے جانے والا ایک جہاز کے جنوبی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے ڈرون سے ٹکرانے کی اطلاع ملی ہے جب کہ ایک اور ٹینکر حملے سے بال بال بچ گیا ہے۔
یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ایران نواز حوثی باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔گذشتہ ماہ نومبر میں بحیرہ احمر سے گزرتی ہوئی ایک کارگو شپ کو حوثی باغیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کارگو شپ کی ملکیت کی کڑیاں اسرائیل سے ملتی تھیں۔ گذشتہ دو مہینوں کے دوران حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے متعدد تجارتی جہازوں کو راکٹوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے
حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر بہت سے بڑے عالمی جہاز رانی گروپوں نے بحیرہ احمر میں اپنی آمدورفت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے بعد عالمی سطح پر کمپیوٹر سے لے کر جوتوں تک کے عالمی سطح پر مہنگے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کیونکہ اگر سوئز نہر کے بجائے دوسرا راستہ یعنی کیپ آف گڈ ہوپ والا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف ایشیا سے یورپ تک مال کی ترسیل میں اضافی وقت لگے گے بلکہ اس کے کرایے اور دوسرے اخراجات بشمول انشیورنس کی رقم میں بھی اضافہ ہوگا۔