ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے خلاف بڈگام میں دوسرے روز بھی ہڑتال

سری نگر، 4 جنوری (یو این آئی) ایرانی فوج کے معروف کمانڈر قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہوئی ہلاکت کے خلاف ہفتے کے روز بھی وسطی ضلع بڈگام کے مین مارکیٹ میں تمام دکانیں بطور احتجاج بند رہیں تاہم سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل میں کوئی خلل واقع نہیں ہوئی۔


بڈگام کے علاوہ یونین ٹریٹری لداخ کے ضلع کرگل میں بھی ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے خلاف ہفتہ کے روز احتجاج درج ہوئے ہیں تاہم بازاروں میں دکانیں کھلی رہنے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی بغداد میں جمعہ کی شب کو امریکی ڈرون حملے میں جان بحق ہوا تھا۔ 62 سالہ قاسم سلیمانی کو ایرانی سپریم لیڈر آیتہ اللہ خامنہ ای کے بعد دوسری طاقت ور شخصیت کے طور پر متصور کیا جاتا ہے۔


وسطی ضلع بڈگام کے مین مارکیٹ میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے خلاف ہفتہ کے روز بھی تمام دکانیں بطور احتجاج بند رہیں اور دیگر تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں تاہم سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل برابر جاری رہی۔
بڈگام کے ایک شہری نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی نہ صرف ایران بلکہ کشمیر میں بھی کافی مشہور ہیں اور وہ یہاں بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی کشمیر خاص کر بڈگام کے لوگ رنجیدہ ہوئے اور اپنے غم وغصے کے اظہار کے لئے گزشتہ روز سڑکوں پر بھی آگئے اور آج بھی دکانوں کو بطور احتجاج بند رکھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading