نئی دہلی:2مارچ (ایجنسیز)پاکستان میں ہندستان کی ایئر اسٹرائک کی جگہ پر موجود جشم دید وں نے پاکستان کی پول کھول دی ہے۔ چشم دیدوں کے مطابق 26 فروری کو ہوئے ایئر اسٹرائک کے گھنٹوں بعد انہوں نے دیکھا کہ جائے حادثہ سے ایک ایمبولینس کے ذریعے 25 لاشوں کو وہاں سے باہر بھیجا گیا۔ چشم دیدوں کے مطابق مہلوکین میں 12 لوگ ایسے شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ایک عارضی جھوپڑی میں سو رہے تھے۔ مارے گئے لوگوں میں کئی ایسے بھی ہیں جو پہلے پاکستانی فوج میں کام کر چکے تھے۔مقامی سرکاری افسران کیلئے کام کرنے والے ذرائع نے پہچان چھپانے کی شرط پر جانکاری دی اور کہا کہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کااختیار نہیں ہے.
صحافی نے خفیہ طور پر چشم دیودوں سے بات کی تھی۔ایک شاہد نے کہا، ‘بمباری کے فورا بعد مقامی افسرجائے حادثہ پر پہنچ گئے لیکن فوج کے ذریعے اس علاقے کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا جہاں پولیس کو بھی جانے کی ذرائع نے کہا ایک سابق پاکستانی انٹر۔سروسز انٹیلی جینس(آئی ایس آئی) افسر جو مقامی طور پر’کرنل سلیم ‘ کے طور سے جانا جاتا وہ ماراگیا جبکہ ایک ‘کرنل زارذاکر’زخمی ہوگیا تھا۔ پیشاور کے جیش محمد کے ٹرینر مفتی معین اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق سازوسامان کا ماہر عثمان غنی بھی مارا گیا۔شاہدین نے کہا، فدائین ٹریننگ کر چکے بارہ جیش محمد دہشت گرد عارضی طور پر بنی جھوپڑی میں رہ رہے تھے جو بمباری میں مارے گئے۔
حالانکہ اس علاقے کے عینی شاہدین الگ۔الگ باتیں کہہ رہے ہیں۔ مختلف گواہوں نے کہا کہ جابا ٹاپ میں کوئی جیش محمد کے جنگی نہیں تھے۔کئی مقامی باشندوں نے ٹیلی وڑن اور پرنٹ صحافیوں کو بتایا کہ کچھ لوگوں کو چوٹ بھی آئی تھی۔ حملے کے کچھ دنوں بعد ہی گواہوں بات چیت کی گئی کئی میڈیا اداروں نے بتایا کہ انہیں جابا کے تمام علاقوں میں بغیر اجازت جانے کی اجازت نہیں تھی۔