اتر پردیش: فون کرنے پر نہیں پہنچی ایمبولنس تو ٹھیلے پر مریض کو لے کر اسپتال پہنچے اہل خانہ
یوگی حکومت میں صحت خدمات بہتر ہونے کا دعویٰ چاہے جتنا بھی کیا جائے لیکن سچائی اس سے بہت ہی الگ ہے۔ زمین پر حالات انتہائی بدتر ہیں۔ اس کی تازہ مثال شاملی کے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں دیکھنے کو ملا جب مریض کو اسپتال پہنچانے کے لیے 108 نمبر پر فون کیا گیا لیکن دو گھنٹے انتظار کے بعد بھی ایمبولنس نہیں پہنچا۔ مجبوراً مریض کے رشتہ داروں نے ایک ٹھیلہ کرایہ پر لے کر اسپتال پہنچے۔
دراصل شاملی کی رہنے والی انجو ایک ہاتھ اور ایک پیر سے معذور ہے۔ انجو کی کمر میں زخم ہو گیا ہے جس کا علاج کرانے اسے اسپتال جانا تھا۔ چونکہ وہ ایک ہاتھ اور ایک پیر سے معذور ہے اس لیے گھر والوں نے ایمبولنس کے لیے 108 نمبر پر فون کیا تھا۔
بہار: ٹرین میں سیٹ کو لے کر ہوا جھگڑا، چاقو سے ایک شخص کا قتل
بہار میں ’پون ایکسپریس‘ ٹرین میں سیٹ کو لے کر دو لوگوں کے درمیان زبردست جھگڑا ہو گیا۔ اس جھگڑے کے درمیان یک شخص نے دوسرے کو چاقو مار دیا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ واقعہ بہار کے چھپرہ جنکشن کا ہے۔ چھپرہ کے اے ایس آئی سنجیت کمار نے اس واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ سیٹ کو لے کر دو لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور ٹرین میں بیت الخلاء کے نزدیک ایک شخص نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کر دیا۔
Bihar: Man stabbed to death allegedly over a dispute regarding seat in Pawan Express train at Chhapra junction. Sanjeet Kumar, ASI GRP Chhapra says, "They had a tussle over a seat, victim was stabbed near the toilet in the train" pic.twitter.com/wLbUkcsxfD
— ANI (@ANI) June 22, 2019
یوگی راج میں ’وی آئی پی کلچر‘ وزیر نے ملازم کے ہاتھوں سے پہنا جوتا
پی ایم مودی وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن یوگی راج میں وزیر اور افسران وی آئی پی کلچر کی ذہنیت سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ اس کی مثال یوگا ڈے کے دن یو پی کے شاہجہاں پور میں دیکھنے کو ملی۔ دراصل ایک یوگا کیمپ میں بطور مہمانِ خصوصی پہنچے ضلع کے انچارج وزیر لکشمی نارائن چودھری نے ایک ملازم کے ہاتھوں سے جوتا پہنا۔ اس دوران وہاں پر ضلع کے دیگر لیڈر، انتظامیہ اور پولس کے افسران سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔
#WATCH: UP Minister Laxmi Narayan gets his shoelace tied by a government employee at a yoga event in Shahjahanpur, yesterday. pic.twitter.com/QbVxiQM7bI
— ANI UP (@ANINewsUP) June 22, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
