ہریانہ: فرید آباد میں کانگریس ترجمان وکاس چودھری کا بہیمانہ قتل
ہریانہ کے فرید آباد سے کانگریس ترجمان وکاس چودھری کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ گولی مارنے والے کا فی الحال پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق فرید آباد کے سیکٹر-9 کی مارکیٹ میں صبح تقریباً 9 بجے وکاس چودھری پر فائرنگ کی گئی۔ گولی مارنے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ سنگین طور سے زخمی کانگریس ترجمون کو اسپتال لے جایا گیا جہاں انھوں نے دَم توڑ دیا۔
#UPDATE Congress leader Vikas Chaudhary has succumbed to injuries https://t.co/H6ZSDNJpnr
— ANI (@ANI) June 27, 2019
مہاراشٹر: ممبرا میں ٹیکسی ڈرائیور کی پٹائی، ’جے شری رام‘ کہنے کا بنایا گیا دباؤ
مہاراشٹر کے ٹھانے واقع ممبران میں مسلم ٹیکسی ڈرائیور کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پولس میں شکایت درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے اسے نہ صرف پیٹا بلکہ ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے دباؤ بھی بنایا۔
Thane : FIR registered after Faisal, a taxi driver in Mumbra had filed a complaint on June 23 alleging he was beaten by three people during a road rage incident. Later he added in the complaint that he was also forced to say 'Jai Shri Ram' by the attackers. #Maharashtra
— ANI (@ANI) June 27, 2019
جھارکھنڈ: تبریز کے والد کی نہیں ہوئی تھی موب لنچنگ، خبریں بے بنیاد… مسعود عالم
جھارکھنڈ میں موب لنچنگ کے شکار تبریز انصاری کے والد کے موب لنچنگ کی خبریں سامنے آنے کے بعد تبریز کے چچا کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس طرح کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ چچا مسعود عالم نے اس طرح کی خبروں کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔
دراصل اس طرح کی خبریں میڈیا میں گشت کر رہی تھیں کہ تبریز انصاری کے والد کی موب لنچنگ 15 سال پہلے ہوئی تھی اور اسی میں ان کی موت ہو گئی تھی۔ بتایا یہ بھی جا رہا تھا کہ ان کی اپنے دوست کے ساتھ کچھ نااتفاقی ہو گئی تھی جس کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا تھا اور لاش ایک ہفتہ بعد برآمد کیا جا سکا تھا۔
Marsood Alam, uncle of Tabrez Ansari who was lynched in Jharkhand, on reports that Tabrez's father was also lynched 15 years ago: He was murdered over a dispute with his friends, we found his body a week later, I refute such reports. pic.twitter.com/DXH5iisruJ
— ANI (@ANI) June 27, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
