ٹرانسپورٹرس ہڑتال: دہلی-این سی آر میں رکوائی جا رہیں اولا-اوبیر، مسافر پریشان
ٹرانسپورٹروں کا ہڑتال حالانکہ پورے ملک میں ہے لیکن دہلی-این سی آر میں اس کا اثر کافی زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دہلی-این سی آر میں کئی جگہ اولا اور اوبیر کو ٹرانسپورٹرس کے لوگ رکوا رہے ہیں جس سے لوگ کافی پریشان ہیں۔ یہ ہڑتال مودی حکومت کے ذریعہ نئے ٹریفک قانون اور بڑھے ہوئے چالان کے خلاف ہے۔
transporters strike: चालान पर ट्रांसपोर्टरों की हड़ताल: दिल्ली-NCR में रुकवाई जा रहीं ओला-ऊबर, लोग परेशान – transporters strike supporters stop ola and uber taxies travellers face distress | Navbharat Times https://t.co/puboiwoAyl
— Abhijeet Chauhan (@Abhiskp29) September 19, 2019
مودی حکومت سے ناراض ٹرانسپورٹرس آج دہلی-این سی آر میں ہڑتال پر
مودی حکومت کے ذریعہ ٹریفک قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف آج 19 ستمبر کو یونائٹیڈ فرنٹ آف ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن (یو ایف ٹی اے) نے یک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس ہڑتال کے مدنظر دہلی-این سی آر میں لوگوں کو خاصہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پریشانی سے بچنے کے لیے کئی اسکول نے بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ اسکول کو بند رکھنے کے سلسلے میں حکومت نے کوئی صلاح یا حکم جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعہ بسوں کی عدم دستیابی کے سبب اسکول کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہڑتال کا اعلان کرنے والے ادارہ یو ایف ٹی اے میں ٹرک، بس، آٹو، ٹیمپو، میکسی، کیب اور ٹیکسیوں کا دہلی/این سی آر میں نمائندگی کرنے والے 41 یونین اور ایسو سی ایشن شامل ہیں۔ اس بند کے دوران چونکہ اولا اور اوبیر بھی بند رہیں گے اس لیے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
#Breaking | Commuter woes peak in National capital after transporters call for a 1-day strike.
Transporters are protesting against the hefty fines imposed under the new MV Act.
TIMES NOW’s Prashant with details. pic.twitter.com/Z6CXh1v2x1— TIMES NOW (@TimesNow) September 19, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
