اہم خبر: فرانس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقات

فرانس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقات

اقوام متحدہ: ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور فرانس کے وزیر خارجہ جین ویز لی ڈرائن کے درمیان نيويارك میں ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے میڈیا آفس نے پیر کو یہ اطلاع دی۔

جواد ظریف نے اتوار کو ٹیلی ویژن نیوز چینل سی بی ایس کو دئیے انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کو لے کر بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بات چیت موجودہ جوہری معاہدہ کے دیگر دستخط کنندگان ممالک کے سامنے ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ 25 ستمبر کو نيويارك میں ایران اور چھ ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ روس، چین، فرانس جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

’بے روزگاری، ملازمتوں پر بحران، موب لنچنگ، کشمیر میں تالا بندی کے علاوہ ہندوستان میں سب اچھا ہے‘

آئی این ایکس میڈیا کیس میں گرفتار سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے هوڈی مودی کے بہانے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا ہے، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے تہاڑ جیل میں ملاقات کے بعد پی چدمبرم نے ٹوئٹ کر لکھا کہ بے روزگاری، ملازمتوں پر بحران، موبل لنچنگ، کشمیر میں تالا بندی، اپوزیشن رہنماؤں کو جیل میں ڈالنا اور کم تنخواہ چھوڑ کر ہندوستان میں سب اچھا ہے۔


منموہن اور سونیا نے تہاڑ جا کر چدمبرم سے کی ملاقات

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے پیر کو دارالحکومت کے تہاڑ جیل میں بند سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم سے ملاقات کی۔ پی چدمبرم کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نےآئی این ایکس میڈیا معاملے میں گزشتہ 21 اگست کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے پانچ ستمبر کو انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا تھا۔

سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کا تہاڑ جاکر سابق وزیر خزانہ سے ملاقات کرنا ظاہرکرتا ہے کہ پارٹی ان کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔ کچھ دن قبل ہی کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل نے بھی تہاڑ جیل میں پی چدمبرم سے ملاقات کی تھی۔ واضح ر ہے کہ گزشتہ پانچ ستمبر سے جیل میں بند 74 سالہ چدمبرم کو عدالت سے گزشتہ تین ہفتے میں کوئی راحت نہیں ملی ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading