سورین نے جھارکھنڈ کے 11 ویں وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا
ہیمنت سورین نے جھارکھنڈ کے 11 ویں وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا، حلف برداری تقریب میں راہل گاندھی، تیجسوی یادو، عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ، این سی پی سربراہ شرد پوار سمیت کئی بڑے لیڈر موجود ہیں۔
Ranchi: Hemant Soren takes oath as the Chief Minister of Jharkhand; oath administered by Governor Droupadi Murmu. #Jharkhand pic.twitter.com/DuZEWF8pKY
— ANI (@ANI) December 29, 2019
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور اشوک گہلوت بھی حلف برداری تقریب کے پلیٹ فارم پر پہنچ گئے ہیں.
Jharkhand: Congress leaders Rahul Gandhi & Rajasthan CM Ashok Gehlot arrive in Ranchi. They will be attending the oath-taking ceremony of Hemant Soren. pic.twitter.com/crcWXy3rxW
— ANI (@ANI) December 29, 2019
جھارکھنڈ: ہیمنت سورین تھوڑی دیر میں 11 ویں وزیر اعلی کا لیں گے حلف
Jharkhand: West Bengal Chief Minister Mamata Banerjee arrives for the oath-taking ceremony of Jharkhand CM designate Hemant Soren, in Ranchi. pic.twitter.com/Ybw4l39F1l
— ANI (@ANI) December 29, 2019
سی اے اے کی بی ایس پی ممبراسمبلی نے کی حمایت، مایاوتی نے کیا پارٹی سے معطل
نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی نے مدھیہ پردیش اسمبلی میں اپنی ممبر اسمبلی رمابائی پریہار کو شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کرنے کی وجہ سے پارٹی سے معطل کر دیا ہے، بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے اتوار كو ایک ٹوئٹ پیغام میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا ’’بی ایس پی ڈسپلن پارٹی ہے اور اس کو توڑنے پر پارٹی کے ایم پی اور ایم ایل اے وغیرہ کے خلاف بھی فوری طور کارروائی کی جاتی ہے۔ اسی سلسلہ میں مدھیہ پردیش میں پتھیريا سے بی ایس پی ممبر اسمبلی رمابائی پریہار کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کرنے پر ان کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔ ان پر پارٹی پروگرام میں حصہ لینے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے‘‘۔
ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ بی ایس پی نے سب سے پہلے اسے تقسیم کرنے والا اور غیر آئینی بتا کر اس کی شدید مخالفت کی۔ پارلیمنٹ میں بھی اس کے خلاف ووٹ دیا اور اس کی واپسی کو بھی لے کر صدر کو میمورنڈم دیا۔ پھر بھی ممبر اسمبلی پریہارنے شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کی۔ پہلے بھی انہیں کئی بار پارٹی لائن پر چلنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
چنئی میں سی اے اے کے خلاف رنگولی بنا رہے لوگوں کو پولیس نے حراست میں لیا
چنئی پولیس نے ان سات افراد کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا، یہ لوگ بغیر کسی پیشگی اجازت کے ایک جگہ جمع ہوئے تھے، یہ سبھی لوگ شہریت ترمیم ایکٹ کے خلاف رنگولی بنا رہے تھے، اسی دوران پولیس نے انہیں بسنت نگر میں حراست میں لے لیا تھا۔
Chennai: Police releases the seven persons who were detained earlier today in Besant Nagar over charges of unlawful assembly and for making rangoli against #CitizenshipAmendmentAct, without prior permission. #TamilNadu pic.twitter.com/jcj0hCjFA4
— ANI (@ANI) December 29, 2019
کسانوں کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو پولیس کی گاڑی نے ماری ٹکر، ایک کسان شدید زخمی
حیدرآباد: آندھراپردیش کے تین دارالحکومتوں کے قیام کی تجویز کے خلاف کسانوں کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے خیمہ کو پولیس گاڑی کی ٹکر کے نتیجہ میں ایک کسان شدید زخمی ہوگیا۔ اس کو فوری طور پرعلاج کے لئے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسی دوران اس مسئلہ پر کسانوں کا احتجاج 12ویں دن میں داخل ہوگیا۔ کسانوں نے آج انسانی زنجیر کا اہتمام کیا۔ ساتھ ہی وجئے واڑہ کے بنز سرکل تک ریلی نکالی گئی۔ کسانوں نے دارالحکومت امراوتی بچاؤ کے نعرے لگائے۔ انہوں نے تین دارالحکومتوں کی تجویز سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھے کہ کسانوں نے دارالحکومت کی ترقی کے لئے 33 ہزارایکڑ اراضی دی ہے۔ کسانوں کے ساتھ ساتھ امراوتی بچاؤ کونسل نے کہا کہ امراوتی کو ہی دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنے کے حکومت کی جانب سے اعلان کیے جانے تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
شہریت ترمیم قانون مخالف تشدد کے سلسلے میں گجرات میں ایک اور کانگریس لیڈر گرفتار
پالن پور:گجرات میں پولیس نے شہریت ترمیمی قانون مخالف پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں کانگریس کے ایک اور لیڈر کو گرفتار کیا ہے۔ بناسكانٹھا ضلع کانگریس کے نائب صدر یاسین بنگلہ والا کو گزشتہ 19 دسمبر کو چھا پی شہر میں پولیس کو گھیرنے اور حملے کی کوشش سے جڑے معاملے میں پکڑا گیا ہے۔ ڈی ایس پی اے آر جنكانت نے آج یو این آئی کو بتایا کہ بغیر اجازت کے ریلی نکال رہی بھیڑ کے پولیس کا گھیراؤ کر کے تشدد کی کوشش کرنے سے منسلک معاملے میں بنگلہ والا 22 نامزد ملزمان میں سے ایک تھے۔ اس کے علاوہ 3000 نامعلوم افراد کی بھیڑ کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ انہیں گزشتہ شام ان کے آبائی شہر كنودر سے پکڑا گیا۔ اس معاملے میں یہ 49 ویں گرفتاری ہے۔ مذکورہ واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل احمد آباد کے شاه عالم علاقے میں ایسے ہی ایک معاملے میں کانگریس کے كارپوریٹر شاہزاد پٹھان سمیت 50 سے زیادہ لوگوں کو پکڑا گیا تھا۔ اس کے علاوہ فیس بک پر شہریت قانون مخالف مظاہروں کو لے کر غلط پوسٹ کرنے والے ایک اور کانگریس کے لیڈر کو بھی پولیس نے پکڑا تھا۔
خودساختہ بھگوان نتیانند کے گجرات کے آشرم کو منہدم کیاگیا
احمد آباد: خود ساختہ بھگوان سوامی نتیانند کے گجرات کے احمد آباد کے هاتھی جن علاقے میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے بنائے گئے آشرم کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ احمد آباد شہری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اوڈا) نے اس آشرم کو منہدم کیا ہے۔ یہ دہلی پبلک اسکول کلوریکس فاؤنڈیشن کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے لیز پر دی گئی زمین پر اسکول کے پاس ہی بنایا گیا تھا۔
آشرم اور اس کے ساتھ چل رہا اس کا اسکول کچھ وقت پہلے غلط وجوہات کی وجہ سے اس وقت سرخیوں میں آیا تھا، جب نتيانند کے ایک سابق پیروکار تمل ناڈو واقع جناردن شرما نے مقدمہ درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کی ایک نوجوان بیٹی اور دو نابالغ بچوں کو آشرم نے جبراً اپنے قبضے میں رکھا تھا۔ اس کے بعد آشرم میں کام کرنے والی دو لڑکیوں کو گزشتہ ماہ گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ جانچ کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ آشرم مذکورہ اسکول کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے لیز پر دی گئی زمین پر واقع ہے۔ اس معاملے میں ڈی پی ایس اسکول کے پرنسپل کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
فجی میں طوفان، ایک کی موت، 2500 سے زائد افراد بے گھر
سووا: فجی میں طوفان ’سرائے‘ کی وجہ سے ایک 18 سالہ طالب علم کی موت ہو گئی اور ایک دوسرا شخص زخمی ہوا ہے۔ فجی کے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفس نے بتایا کہ ملک بھر میں ’سرائے‘ کی وجہ سے 2500 سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ دفتر نے کہا ’’ایک 18 سالہ طالب علم کی ہفتہ کو شام میں كداوو میں بید مدام ندی میں ڈوبنے سے موت ہوگئی۔ وہ دوستوں کے ساتھ تیرا کی کے دوران ندی کی تیز دھارے میں بہہ گیا‘‘۔ وہیں درخت گرنے کی وجہ سے دارالحکومت سووا میں ایک شخص زخمی ہو گیا، جبكہ صوبہ نیٹسری میں ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ملک بھر میں 2538 لوگ 70 پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں، ملک کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-