ایران کے ساتھ بات چیت کے امکانات بڑھے ہیں… رابرٹ او برائن
واشنگٹن: امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن کا خیال ہے کہ ایران اپنے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد بھی بات چیت کا خواہشمند ہے۔ اوبرائن نے اكسيوس نیوز پورٹل کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میں مانتا ہوں کہ سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں‘‘۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایک امریکی فوجی مہم میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ایک ڈرون حملہ کر کے ایرانی کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کے مطابق سلیمانی عراق اور مغربی ایشیا میں امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے عراق میں اتحادی افواج کے ٹھکانوں پر گزشتہ چند ماہ میں کئی حملے کیے تھے جن میں 27 دسمبر کو ہوا حملہ بھی شامل تھا۔ اس حملے میں امریکی اور عراقی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ جنرل سلیمانی نے 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ہوئے حملوں کو بھی منظوری دی تھی ۔ اس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر کئی فضائی حملے کیے تھے۔ امریکہ نے جمعہ کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مہاراشٹر: پالگھر کیمیکل فیکٹری میں آگ، مرنے والوں کی تعداد 7 ہوئی
مہاراشٹر کے پالگھر میں واقع کیمیکل فیکٹری میں ہوئے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 7 ہو گئی ہے، ہفتہ کو فیکٹری میں زور دار دھماکہ ہوا تھا۔
لکھنؤمیں 13 سال کی لڑکی پر پڑوس کی عورت نے پھینکا تیزب، بری طرح جھلسی
لکھنؤ کے قیصر باغ علاقے میں ایک 13 سال کی لڑکی پر پڑوس کی عورت نے تیزاب پھینک دیا، لڑکی کا چہرہ اور اس کے ہاتھ بری طرح جھلس گئے، اسے زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
Lucknow: A 13-yr-old girl admitted to hospital after she suffered acid burn when a bag, carrying a bottle of acid, was flung towards her during an argument b/w a woman & a jewellery cleaner in Qaisar Bagh police station limits. Woman, who flung the bag, has been arrested. (11.01) pic.twitter.com/Jvc8AiZX5U
— ANI UP (@ANINewsUP) January 11, 2020
روحانی نے طیارہ حادثے کے سلسلے میں یوکرین کے صدر سے گفتگو کی
کیف: ایران کے صدر حسن روحانی نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کو فون کر کے یقین دہانی کرائی ہے کہ یوکرین کے طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے لئے ذمہ دار تمام لوگوں کی ذمہ داری طے کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔
یوکرین کے صدر دفتر کی پریس سروس نے ہفتہ کو دونوں لیڈروں کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت کے بعد یہ معلومات دی۔ زیلینسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اپنی غلطی قبول کرے گا اور سرکاری طور پر معافی مانگنے کے بعد اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کو سزا دے گا۔ اس کے علاوہ مہلوکین کے لواحقین کو معاوضہ بھی دے گا۔ ایران کی پاسداران ِ انقلاب اسلامی کی قدس فورس (آئی آر جی سی) نے ایک بیان جاری کر کے یوکرین کے بوئنگ 737 مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس حادثے میں 176 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
آ ئی آر جی سی نے بیان میں کہا ’’امریکہ کے ساتھ کشیدگی عروج پر پہنچنے کی وجہ سے فوج ہائی الرٹ پر تھی اور جب جہاز حساس فوجی مرکز کی جانب مڑا تو غلطی سے اسے دشمن کا طیارہ سمجھ لیا گیا۔ اس صورت حال میں غیر ارادی طور پر طیارے کو گرا دیا گیا‘‘ فوج نے اس حادثے کے لئے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کی غلطی نہ ہو اس کے لئے ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
