ناندیڑ:18ڈسمبر(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جہاں مُلک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے وہیں اب ناندیڑ میں بھی 20 دسمبر کو دوپہر دو بجے دفتر ضلع کلکٹر کے سامنے بھی بڑے پیمانے پر کل جماعتی احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ جس میں دو لاکھ سے زائد افراد کے شرکت کی امید کی جارہی ہے۔ اِس طرح کی معلومات مفتی ایوب قاسمی نے ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس میں دی۔ جماعت اسلامی ناندیڑ کے دفتر پر منعقدہ پریس کانفرنس میں سیاسی اور سماجی تنظیموں کے زمہ داران موجود تھے۔
احتجاجی دھرنے کی بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جارہی ہے ۔اس کیلئے شہر کی تمام سیاسی، ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی گئی ہے ۔کل جماعتی تحریک کے عنوان سے بنائی گئی کمیٹی کے ذمہ داران نے آج پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کل جماعتی احتجاجی دھرنے سے متعلق کی گئی منصوبہ بندی کے بارے میں تفصیلی معلومات دی۔ علماء و دانشوروں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت پر زوردار تنقید کی اور شہریت ترمیمی قانون سے متعلق مسلمانوں کے ذہنو ں میں پائے جانے والے اندیشوں کے بارے میں جانکاری دی۔ علماء نے کہا کہ مودی حکومت ایک کے بعد ایک ایسے متنازعہ اور غیر دستوری قوانین لارہی جس سے ملک کے سیکولر کردار کو ختم کیا جائے ۔اور ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔
شہریت میں ترمیمی سے متعلق لایا قانون نہ صرف مسلمانوں پر حملہ ہے بلکہ ملک کے دستور کو سیکولر قدروں کو ختم کرنے کی کوشش ہے ۔اس قانون سے نہ صرف مسلمان متاثرہونگے بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔ علماء نے کہا کہ ہم اس تحریک میں مسلمانوں کے علاوہ تمام برادران وطن کو شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاکہ ہماری آواز کو ہم موثر انداز میں حکومت تک پہنچاسکے۔ احتجاجی دھرنے کی تیاریوں کی بھی تفصیلات بتائی گئی ۔اس قانون کو غیر دستوری اور نا انصافی پر مبنی بتاتے ہوئے مودی حکومت جب تک یہ قانون منسوخ کرنے کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک احتجاجی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ احتجاجی دھرنے کا کامیاب بنانے کیلئے کثیر تعداد میں لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اِس پریس کانفرنس میں مولانا ایوب قاسمی، مولانا سرور قاسمی، مولانا مرتضٰی رضوی، مولانا عبدالحسیب قادری، جماعت اسلامی کے ریاض الحسن عامر، مولانا آصف ندوی، مولانا عظیم رضوی کے علاوہ ایم آئی ایم کے سید معین، فیروز لالہ، صابر چاوش، کانگریس کے سابقہ میئر عبدالستار، شمیم عبداللہ، شفیع احمد قریشی، راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ایڈوکیٹ محمد خان پٹھان، رؤف زمیندار، ونچت بہوجن آگھاڑی کے فاروق احمد، کارپوریٹرس عبدالفہیم، عبدالرشید، عبدالعلیم، عبدالحفیظ، ناصر خطیب، ایڈوکیٹ نصیر فاروقی، فیروز خان، ایڈوکیٹ ایوب جاگیردار و دیگر موجود تھے۔ اس احتجاج کو جماعت اسلامی، جمیعت علماء، پاپولر فرنٹ، سنّی علماء بورڈ، مرکزی میلاد کمیٹی، ایس ڈی پی آئی، ایم پی جے، تنظیم انصاف، مینارٹی میڈیا اسوسی ایشن، ہپپی کلب، خادمین امت کی تائید حاصل ہے۔
