’اگر کابل پر حملہ ہو گا تو جواب میں اسلام آباد پر بھی حملہ ہو گا، ہم دس سال تک بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں‘: افغان وزیر دفاع

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ ’اگر کابل پر حملہ ہو گا تو اس کے جواب میں اسلام آباد پر بھی حملہ ہو گا۔‘ملا یعقوب مجاہد نے سنیچر کے روز ایک انٹرویو میں افغانستان کے مقامی ٹی وی چینل طلوع نیوز سے بات چیت کی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان لڑائی نہیں چاہتا ’لیکن اگر وہ (پاکستان) جنگ کو دس سال تک بھی طول دینا چاہتے ہیں تو ہم دس سال تک بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی خوف نہیں۔‘

افغان وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی بنیادی وجوہات کا محور ڈیورنڈ لائن پر تنازعات ہیں۔پاکستان کی جانب سے افغان وزیر دفاع کے اس بیان پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین 26 فروری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔

جمعے کو کابل میں سینکڑوں افراد نے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیا اور افغانستان پر پاکستانی فوج کے حملوں کی مذمت کی جبکہ افغان فورسز کی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ احتجاج افغانستان کے دارالحکومت کابل کی عید گاہ مسجد میں ہوا، جہاں شرکا نے سرحد پار سے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔

افغان فورسز نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں میں بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے ہیں جبکہ جمعے کو پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں ہیں۔پاکستان سکیورٹی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی میں متعدد پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوج کی جانب سے آپریشن ’غضب للحق‘ تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔جمعے کو پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے ایکس پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب تک آپریشن ’غضب للحق‘ میں افغان طالبان کے 527 اہلکار مارے گئے جبکہ 755 زخمی ہوئے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ان آپریشنز کے دوران اب تک 237 چیک پوسٹس تباہ جبکہ 38 چوکیاں تحویل میں لی گئی ہیں جبکہ 205 ٹینکس، گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئی ہیں۔

عطا تارڑ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں 61 مقامات پر فضائی کارروائی کی گئی۔واضح رہے کہ بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading