شرد پوار نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ شنکر راؤ چوہان کی ایک تجویز اگر اس وقت کی نرسمہا راؤ کی قیادت والی مرکزی کابینہ منظور کر لیتی تو بابری مسجد شہید ہونے سے بچ جاتی
#BabriMasjid #SharadPawar
ممبئی۔12. ماارچ(ورق تازہ نیوز)اترپردیش میں ہندوتواوادی تنظیموں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اس وقت ملک کے سامنے حالات کافی سنگین تھے۔اور ملک میں سماجی افراتفری کا ماحول ہوگیا تھا۔ان حالات کو بہتر بنانے کیلئے اس وقت مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔تب مرکزی وزیر داخلہ شنکر راؤ چوہان نے اس وقت کی یوپی کی کلیان سنگھ حکومت کو فی الفور برخاست کرنے کاخیال ظاہر کیا تھا ۔
اس طرح کی معلومات راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے قومی صدرِ شرد پوار نے دی ہے۔ شنکر وار نے مزید کہا تھا کہ کلیان سنگھ حکومت ہندوتواوادی حامی ہے اسلیے اسکی برخاستگی سے ہی حالات بہتر ہوں گے۔ لیکن اس وقت ہم سب مرکزی کابینہ نے چوہان کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن آج ماضی پر نظرِ ڈالی جائے تو شنکر راو کا فیصلہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور آج بابری مسجد نہیں گرتی۔اور خونریزی بھی نہیں ہوتی۔ان خیالات کا اظہار بھی پوار نے گزشتہ روز منعقدہ پروگرام میں کیا۔