اور خالق جو روٹھا ہے تو

تحریر: مولانا نسـیم رضا، کونڈوا، پونہ

9049922710

صبح کے سوا گیارہ بج چکے تھے، دوکانوں کے شٹر آہستہ آہستہ گرنے لگے، راستے پہ اکا دکا راہ گیر نظر آئے، سناٹا چھانے لگا، لوگ اپنے اپنے گھر جا چھپے، پولس کی گشت بھی بڑھنے لگی، تیز ترک قدموں سے ہم بھی گھر جا پہچے، دیکھتے ہی دیکھتے ظہر کا وقت آ پہنچا، گھڑی میں دوپہر کے ایک بج چکے تھے، ایک نظر مسجد پہ ڈالی یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ آذان و وضو کے لیے مسجدوں کے گیٹ کھول دیے جاتے ہیں، ذہن و دماغ میں وہی خیالات گردش کر رہے تھے، یہ بھولے بیٹھے تھے کہ کرفیو کا ماحول ہے، مسجدوں کے دروازے مقفل ہیں،

عام دنوں میں اس وقت اطراف مسجد کافی چہل پہل ہوا کرتی تھی، وہ آذان کی صدا؛ لوگوں کا اپنے اپنے گھروں دوکانوں کارخانوں سے مسجد کے لیے نکلنا، چہرے ہشاش بشاش دلوں میں اطمینان، سروں پہ ٹوپیاں، کسی کے رومال کسی کے پگڑی، کوئی منہ میں مسواک دبائے ہو ئے علیک سلیک کی آوازیں، خیر و عافیت کی دعائیں لیتے دیتے مسجد میں دخول اقامت تکبیر صف بندی کرتے ہوئے ایک ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر قیام، رکوع و سجود کی کیفیات ایک امام کی صداء ﷲ اکبر پر دنیا کا سارا جائز کام (کھانا پینا ہنسنا مسکرانا سلام کلام) حرام جان کر اسی خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں جو عظیم قوتوں کا مالک ہے، عجز و انکساری کیساتھ اپنی عبادت و بندگی کا نذرانہ پیش کرنے کیلیے لوگ کبھی کھڑے کبھی جھکے ہیں، کبھی سربسجود ہیں۔۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم میں کوئی آقا تھا کوئی غلام، کوئی مالک تھا کوئی نوکر، کوئی حاکم تھا کوئی محکوم، کوئی أمیر تھا تو کوئی غریب، کوئی کالا تھا کوئی گورا، کوئی چھوٹا تھا تو کوئی بڑا۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔مگر یہ ساری دوریاں یہ تفریق، یہ آپسی رقابتیں، رنجشیں عداوتیں، دلوں کا نفاق مسجد آٹے ہی کافور ہو گئے۔۔۔۔

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہو ئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

مگر اب تو منظر ہی سراپا بدل چکا ہے، مجمع کی جگہ تنہائی نے لے لی، سلام و کلام کی جگہ خاموشی نے لے لی، میں مسجد کو تکتا گیا، گیٹ پہ لگے تالے کو دیکھ کر دل پھڑپھڑا اٹھا، کلیجہ منہ کو آیا، سینے سے آہ نکلی، واردات قلب کو بیان کرنے کے لیے آنسو صبر و ضبط کا پیمان توڑ چکے تھے۔۔۔۔۔۔

دل رویا کہ آنکھ بھر آئی کسی سے اب کیا کہنا
مجھے یاد نہ تیری آئی کسی سے اپ کیا کہنا

مجھے پتا تھا اس عاصی و نافرمان بندے کو فرشتے دیکھ رہے ہوں گے خوف رسوائی چھپانے کے لیے جیب سے رومال نکالا اور گرم گرم آنسوؤں کے سیلان کو سموتا گیا، خانہ خدا کو ٹکٹکاتی نگاہوں سے دیکھتا رہا، دل نے چاہا کہ دیوڑھی پہ سر پٹخ دو‌ں۔۔۔۔ کہ *مولا !* ہم سے کیا بھول ہوئی تو نے اپنے گھر کا دروازہ ہی ہم پر بند کر دیا، مولا ! تیری رحمت کا دریا تو بڑا وسیع ہے، میرے رب تیری صفت تو رحمان و رحیم ہے، تیری (بندوں پہ) شفقت تو ستر ماؤں کے پیار سے بھی زیادہ ہے، مولا ! تو تو کہتا ہے : سبقت رحمتی علی غضبی (حدیث ـ مسلم) (میری رحمت میرے غضب پہ سبقت لے جاتی ہے) یعنی تو کرم ہی کرم ہے تو عطا ہی عطا ہے عفو و عافیت ہے، تواب و غفار ہے تو مولا ! ھم تیرے قہر وغضب ملکوتیت و جبروتیت سے پناہ مانگتے ہیں، وَأَمَّا ٱلسَّاۤىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ کا واسطہ تیرے در پہ پڑا رہنے دے در آستاں کو کھول! قفل آویزاں ہٹادے !

حق پرستوں کی اگر تونے دلداری نہ کی
طعنہ دینگے بت’ کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں

دل کی اس کیفیت کو احاطہ تحریر میں نہیں لا سکتا، جزبات کو الفاظ کا جامہ نہیں دے سکتا، احساسات کو جملوں میں سما نہیں سکتا۔۔۔۔۔

قلب مضمحل نے کہا: *نسیم !* اب سب کچھ بدل چکا ہے یہ رنگ زمانے کا انداز رندانہ ہے، طرز عورتوں کا مردانہ مردوں کا زنانہ ہے، اب کس قیامت کا انتظار ہے تمھیں؟ ۔۔۔۔ سورج کی تمازت گرمی کی شدت، یہ خامشی یہ ہو کا عالم! اب تو لگتاہے سورج کا بھی فاصلہ آہستہ آہستہ کم ہو رہاہے، زمیں سے اس کا قرب بڑھ رہاہے سوا نیزے کے دوری طےکرنے والا ہے مگر اس سے پہلے’ تم نے آپس میں لکیریں کھینچ لیں، دوریاں بنا لیں، ایک دوسرے سے لوگ کیسے بھاگ رہے ہیں؟ اسی ماحول کو تو قرآن آثار قیامت بتا رہا ہے؛ کہ آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، ماں باپ سے، بیوی بچوں سے لِكُلِّ ٱمۡرِئࣲ مِّنۡهُمۡ یَوۡمَىِٕذࣲ شَأۡنࣱ یُغۡنِیهِ ہر شخص کی وہ کیفیت ہوگی کہ ایک دوسرے سے بےنیاز و لا پرواہ ہونگے کسی کو کسی کی فکر نہ ہوگی سب اپنی دھن میں مست والست ہونگے (مفہوم)
رشتہ داروں سے عزیز و اقارب سے دوستوں یاروں سے کم ازکم ایک میٹر کی دوری بنائے رکھنا ہے۔۔۔۔۔۔
*اے شخص!* اب بھی تیرے رب نے ایک موقع تجھے سنبھلنے کا دیا ہے، جا! ابھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے، رب نے ابھی اسے کھول رکھا ہے جلدی کر ورنہ وہ بھی بند ہوا چاہتا ہے، پھر کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا، گھروں پہ نماز و عبادت تلاوت و اذکار کے مواقع ابھی موجود ہیں۔

مسجد کی انتظامیہ نے مائک بھی بند کر رکھا ہے ایک ہفتہ سے زیادہ ہو گئےکانوں نے حي على الصلٰوة کی صدا نہیں سنی یکایک کہیں دور سے
ﷲ اکبر ﷲ اکبر کے کلمات سنائ پڑے، ۔۔۔۔۔ نہ پوچھیے دل کا حال کیا ہوا خیالات ایسے پر کیف ہوگئے گویا باغ جناں میں ہیں، کلمات سنتے گئے مست و بے خود ہوتے گئے۔۔۔۔۔۔اقبال کا شعر یاد آگیا

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور

ایک ایک لفظ اندر سے جھنجھوڑتارہا ۔۔۔۔۔ بے خودی کے عالم میں یہ فیصلہ نہیں، کر سکا، کہ یہ کسی مجاہد کی پکار ہے یا کسی موذن کی ندا (اذاں) ہے۔۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading