اورنگ آباد:(جمیل شیخ): واضح رہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں جمع شدہ کچرے میں آگ لگانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے لہذا اس کے سبب فضاءآلودہ ہونے نہ پائے اس غرض سے کچرے کے ٹیلوں پر متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے پانی کا چھڑکاﺅ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے شہر میں کچرا نکاسی کا معاملہ میونسپل انتظامیہ کا درد سر بڑھائے ہوئے ہیں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اے ایم سی انتطامیہ نے شہر کے چار مقامات پر پروسیسنگ سینٹرس قائم کئے مگر پڑیگاﺅں میں بنائے گئے پروسیسنگ سینٹر پر عوامی مخالفت کے سبب گزشتہ دو ماہ سے وہاں کچرا ڈمپ نہیں کیا جاسکا۔
ہرسول اور چکل تھانہ علاقہ میں بھی میونسپل ملازمین کو عوامی مخالفت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ایکبار پھر شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ٹیلے جمع ہونے لگے ہیں او ران ٹیلوں میں آگ لگائے جانے کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں لہذا کچرا جلائے جانے کے سبب فضائی آلودگی میں اضافہ نہ ہونے پائے اس غرض سے متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ان کچرے کے ٹیلوں پر پانی کا چھڑکاﺅ کیا جانے لگا ہے۔ جس سے وقتی طور پر تو زہریلے مادے فضاءمیں شامل ہونے نہیں پائینگے مگر کچرے کے ٹیلوں پر پانی کے چھڑکاﺅ کے سبب اس سے تعفن پھوٹ پڑیگا اور شہریان کے وہاں امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے
لہذا شریان کچرا نکاسی کا مستقل حل چاہتے ہیں مگر فی الحال تو میونسپل انتظامیہ کے پاس اس طرح کا کوئی مستقل حل دکھائی نہیں دیتا۔ اور متعلقہ انتظامیہ نئے نئے تجربات پر کروڑوں روپئے یوں ہی برباد کررہا ہے۔ جس سے متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے مگر اس معاملے میں عوامی نمائندے لب کشائی کے لئے تیار نہیں ہے۔