تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی ،گلری،ممبرا ، ممبئی
تمام تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے جو زمین میں تباہی ،فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا ،نہ ہی کبروعناد سے راضی ہوتا ہے ۔دلوں کے اندر پوشیدہ باتیں اس پر مخفی نہیں ۔وہ ذات آزمائشوں کے بقدر اجر بھی عطا کرتا ہے یہ اس کا بھت بڑا فضل و احسان ہے۔
آج حالات انتہائی نازک اور پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں، سیاسی پارٹیاں ہمیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی نظر آتی ہیں، مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر اقتدار پانے کی کوشش ہوتی ہے، نفرت کے ماحول میں ملک جل رہا ہے، حالات انتہائی مخدوش ہیں، فسادیوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، تمام پارٹیاں ہمیں اپنے اپنے سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھ رہی ہیں جو ہمارے ہی ووٹوں سے حکومت میں وجود میں آتی ہیں، ظلم و زیادتی کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، حکومتوں کی نیتیں صاف نہیں دکھ رہی ہیں، جھوٹی باتوں کو میڈیا کے ذریعہ خوب پھیلایا جاتا ہے.
ایسی صورت میں ہم دانشمندی سے کام لیں، لوگوں کی پریشانیوں اور تکلیفوں کو دیکھ کر پریشان ہوں، ان کی مدد کریں اللہ ضرور ہماری مدد فرمائے گا، محنت، لگن اور خلوص کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کریں، اپنے سینوں میں ایک دھڑکتا ہوا دل رکھیں، عزت و وقار کی زندگی گزارتے ہوئے دوسروں کے لیے آئیڈیل و مثالی رہنما بنیں،اپنے بھائیوں کو جگاتے ہوئے سماجی بد حالی کو دور کریں انھیں ترقی کے میدان میں آگے بڑھائیں ،اپنے مسلکوں و جماعتوں پر اختلاف کرنے کے بجائے اپنے اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے ایک پلیٹ فارم کے وجود پر غور کریں تاکہ مسلمانوں کے اتحاد کو عملی جامہ پہنایا جاسکے، اور انھیں اخلاقی و علمی، ایمانی و اقتصادی ہر طور پر مضبوط کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کی حفاظت کی جائے، آپسی تنافر کو ختم کیا جائے، فرقہ بندی کو ختم کرکے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، سسکتی و بلکتی ملت میں ہم آہنگی پیدا کریں، اپنے بھائیوں کی آہوں اور کراہوں پر نظر رکھیں، کسی مسلک کو ٹھیس نہ پہونچا کر پوری امت کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھیں، دانشوروں اور مصلحین کو آگے بڑھ کر کام کرنے دیں، جبہ و دستار، اور مسند کے بجائے ضرورت مندوں کی ضرورت کو پوری کریں، امت کو تعلیم میں آگے بڑھا کر ان کو ہر اعتبار سے نکھارنے اور مضبوط بنانے کی کوشش کریں.
کوئی بھی کام منظم طریقے سے انجام دیں، اجتماعیت کو فروغ دیں، انتشار و افتراق کی وجہ سے ہماری بھت ساری انرجی، وسائل و ذرائع اور توانائی بیکار و برباد ہوجاریے ہیں، رفاہی کاموں کو فروغ دیں، ہماری قوم سب سے زیادہ خرچ کرتی ہے مگر اختلافات کی وجہ سے سارا اثاثہ ضائع ہو جاتا ہے،معاشی پسماندگی و مفلوک الحال قسم کے لوگوں کو مضبوط بنائیں تاکہ غربت اور پسماندگی کا نام و نشان ختم ہو اور ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو کاش ہم اس اہمیت کو سمجھتے.
اپنے کو لینے سے زیادہ دینے والا بنائیں، مالی حالات میں سدھار پیدا کریں، تھوڑے تھوڑے پیسوں کو جمع کرکے بڑے مقصد میں استعمال کریں، غیروں کا دست نگر نہ بنیں، غریب بھائیوں کی بھی عزت و آبرو کا بھی خیال رکھیں، تعلیمی میدان میں پیش قدمی کریں، ہمارے یہاں ماہر قوانین، وکلاء و بہترین سیاستدانوں کی شدید کمی ہے، ہم اپنے کیس کو عدالتوں میں کیسے پیش کریں؟ایسے بہترین وکلاء پیدا کریں جو بہتر طور پر کام نبھا سکیں ، ایسے وکیل نہیں جو صرف ڈگری لیے ہوئے ایل ایل بی LLB کی گھومتے پھریں اور ان کے اندر نہ کوئی جذبہ ہے نہ حوصلہ کہ قوم کے لیے کچھ کریں، ہمارے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے اچھے قانون داں پیدا کریں تاکہ بے قصور نوجوانوں کو جیلوں کی سلاخوں سے آزاد کرایا جاسکے.
تعلیم کا مسئلہ ہو یا کاروبار،سرکاری ملازمت ہو یا سیاسی ایوانوں میں نمائندگی، ہم سب میں پیچھے ہوتے چلے جارہے ہیں بلکہ ہم پچھڑے ہوئے دلتوں اور پچھڑی طبقوں سے بھی پیچھے ہیں،ہم پریشان بھلے ہوں مگر ایسا نہیں کہ ناامیدی کا ہتھیار ڈال کر ہم بیٹھ جائیں، یہ بات سورج سے بھی عیاں ہے اور حقیقت بھی ہے کہ اب ہمارے اندر ہر طرح کی بیداری نے جنم لیا ہے، ہمارے اداروں میں کچھ حد تک سدھار ہوئی ہے.چھوٹے شہروں میں بھی بڑے تعلیمی ادارے اعلیٰ درجہ کی تعلیم دے رہے ہیں، مسلمانوں میں ٹاپر بچے بھی ہیں جنھوں نے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں و کالجوں میں نام پیدا کیا ہے لھذا ہم ان نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل سے مایوس نہ ہوں اور اس پر مزید یہ بھی کہ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے.
آج ہمارے اسکولوں، کالجوں میں لڑکیاں لڑکوں سے بھی پیش پیش ہیں اور نمایاں کامیابی کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنا، ماں باپ اور علاقے اور قوم کا نام بھی روشن کیا ہے جو روشن مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں، کہ ہم نے اپنے مسائل بڑھ کرکے خود حل کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی ملکی و بیرون ملکی این جی او N. G. O. نہیں کراسکتی ہیں.
اتحاد زندگی ہے اور انتشار موت ہے آج ہمارے اجتماعیت کے فقدان نے ہمیں چھوٹی چھوٹی کمیونٹیوں میں تقسیم کردیا، اگر ہم نے ابھی توجہ نہیں دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی اور یہی رفتار رہ گئی تو ہم پر جو وقت آنے والا ہے اس کے تصور سے ہماری ہی روح کانپ جاتی ہے.
اگر ہم اپنی معیار زندگی کو بلند کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی ٹھوس قدم اٹھانا پڑے گا، اپنی حالتوں کو سدھارنے کے لیے ہمیں خود بخود حرکت میں آنا ہوگا اس کو قطعاً سرد نہ ہونے دینا ہوگا ہمت و حوصلہ برقرار رکھنا ہوگا اور ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرکے مستقبل کے عزائم پر نظر رکھنی ہوگی، ابھی بھی بھت سے منزل طے کرنے ہوں گے. قوم کے اندر اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کرتے رہنا ہوگا.
آج ضرورت ہے کہ عام لوگوں کو بھی تعلیم کی طرف رائج کیا جائے، اپنے غلاف سے باہر نکل کر دور جدید کے تقاضے کو سمجھیں، اپنے ہم وطن بھائیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور میل جول بڑھائیں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرکے ان کا اعتماد حاصل کریں اور اپنی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھیں، اپنی صلاحیتوں کے بل پر ملک کو ترقی کی راہ پر لائیں اور ملک کو بھت کچھ دیں جسکی ضرورت پڑے،عصر حاضر کے چنوتیوں اور اس کے تقاضوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، سنجیدگی اور مستقل مزاجی اپنائیں.
آج ہمارے یہاں مصلحین اور دانشوروں کی قلت اس لیے ہے کہ ان کی فکر کو دبا دیا جاتا ہے اور زیادہ زور آزمائی پر انہیں کچل دیا جاتا ہے، آج اصلاح معاشرہ ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، علماء اور ملت کا درد رکھنے والے افراد اصلاح معاشرہ کی کوششوں میں پیش پیش ہیں پھر بھی ان کی یہ کوششیں ناکافی ہیں،اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ جو افراد اصلاح معاشرہ کی مہم کا حصہ بنتے ہیں وہ خود کئی طرح کی معاشرتی برائیوں کا شکار ہیں اس لیے ان کی باتوں کو سماج میں صحیح ڈھنگ سے نہیں سنا جاتا ہے، قول و عمل کا بھی تضاد ہے، جو ایسے معاشرے کے افراد کو ایسے مصلحین کی باتوں پر عمل کرنے سے دور رکھتا ہے، مثلا جہیز جس کا اسلام و مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں خالص ہندوانہ رسم ہے بلکہ ہندو دھرم کے لوگ بھی اس سے پریشان ہیں اس سے نپٹنے کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں مگر ہمارے یہاں ان کی دیکھا دیکھی اس کی جڑیں پیوست ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے بےشمار لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہو پاتی وجہ بس یہی کہ ان کے والدین کے پاس مطلوبہ رقم نہیں،
افسوس تو تب ہوتا ہے کہ مذہبی لوگ بھی اسے کے خلاف تحریک چلاتے ہیں اور اپنا معاملہ آتا ہے تو خود اس میں ملوث پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری خرابیاں اور پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں.
ہمارے لیے خوشی اس بات پر ہے کہ ہماری نسل نو ہر طرح کی جدید تعلیم میں دلچسپی لے رہی ہے جو ہمارے عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکے مگر ہماری آبادی اور مسائل کے انبار کو دیکھتے ہوئے یہ بھی بھت کم ہے ہمارے برادران اس میں کافی آگے ہیں ہمیں ان سے سیکھنا ہوگا اور اس کے لیے لمبا سفر درکار ہے.
ضرورت ہے کہ ہم اس طرح کی سماجی بیماریوں سے بچیں اور ہر طرح سے سماج میں بیداری لائیں اگر سماج میں بیداری اور شعور پیدا کی جائے تو مسلم سماج تعلیم، صحت، غلط رسوم و رواج سے بچ سکتا ہے، آج ہم ضرور ترقی کرسکتے ہیں اور کریں گے بھی مگر اس سمت ہمیں لمبا سفر ابھی طے کرنا ہوگا،، نشہ آور چیزوں سے ہم خود کو بچائیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لیے آمادہ کریں، اسی طرح جرائم پیشہ لوگوں سے بچیں اور کسی جرم میں اپنے آپ کو ملوث نہ کریں.
اسلام ہمیں انھیں تعلیمات کو اپنانے کے ساتھ ساتھ کامیاب زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے، ہم بے شمار قسم کی لعنت و ملامت کو چھوڑ کر ہی عروج پاسکتے ہیں اس سے چھٹکارہ پائے بغیر ہماری ترقی ناممکن ہے، آج ہمارے برادران اسلام کی تعلیمات کو اپنا کر ترقی کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ ایک ایک چیزیں ہمارے سامنے سے نکلتی اور ختم نظر آتی ہیں.
لہذا اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھیں اگر یہ بھی ختم ہوگئی تو پھر عذاب الٰہی کو دعوت دینا حتمی ہوگیا. ترقی تو دور اللہ ہمیں اس صفحہ ہستی سے ختم کردے گا اور اللہ کی مدد سے دور ہوتے چلے جائیں گے، احساس کمتری سے دور رہ کر بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں ان کو اسلام کی تعلیمات سے روشناش کراتے رہیں ان کی ترقی سے ہی ہماری ترقی کہلائی جائے گی، سماج میں اونچ نیچ کے بھید بھاؤ کو ختم کرنا ہوگا، برادران وطن بھی ذات پات کی سیاست سے دور رہیں ورنہ اس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا لھذا ذات پات، علاقہ پرستی، مذہب کا رجحان ختم کرنا ہوگا، ان چیزوں کے رہتے ہوئے سماج میں کبھی ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی ہے.
حکومتوں کو بھی اپنی نیتیں درست کرنی ہوگی اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو تعلیم کو آسان کرے کیونکہ تعلیم ہی سارے مسائل کا حل ہے، اور سیاسی رہنماؤں سے بھی میری اپیل ہے کہ مسلمانوں کو سیاست میں الجھانا بند کردیں، تمام سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ہمارا استعمال اور استحصال کیا ہے، پھر بھی ہم ہر معاملے میں حکومت کا منہ دیکھتے ہیں جن کی بد نیتی ظاہر ہے جب تک خود ہمارے اندر جوش و ولولہ نہیں ہوگا اس وقت تک کوئی بھی حکومت ہمارے حالات کو سدھار نہیں سکتی.حکومتوں کے دیے ہوئے خیرات پر کوئی قوم زندہ تو رہ سکتی ہے مگر آگے بڑھ کر ترقی نہیں کرسکتی ہے اس لیے طول جدوجہد اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی ترقی کے لئے اپنا لوہا منوانا ہوگا کیونکہ اب نعرہ بازی اور مظاہرے اور سڑکوں پر اترنے سے اب کچھ نہیں ہونے والا ہے اگر ہم اس بات کو سمجھ لیں تو کبھی ہم پر زوال نہیں ہوگا. ان شاءاللہ تعالیٰ
اسمبلی الیکشن قریب ہے جس کی وجہ سے ہماری سیاسی پارٹیاں نئے نئے اعلانات اور نئی نئی اسکیموں کے ذریعہ بھی ماحول خراب کرکے اس کا سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہیں ایسی صورت میں ہم سب صبرو تحمل سے کام لیں اور ان کی شازشوں کو ناکام کریں،ہندو مسلمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں نہ مسلمان ہندوؤں کے دشمن ہیں اور نہ ہندو لوگ مسلمانوں کے، صرف اور صرف فرقہ پرست طاقتیں اپنے فائدے کے لیے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کرتی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت خراب ہوتی جاتی ہے اور ترقی کی رفتار سست ہوتی نظر آتی ہے، ہمارے ہندو برادران یا اس ملک کا عام آدمی فرقہ پرست نہیں ہے مگر فرقہ پرستوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتا ہے اور بھت سارے کام کردیتا ہے یا کھ دیتا ہے جس کی وجہ سے فرقہ پرست عناصر اپنے مشن اور عزائم میں کامیاب ہوجاتے ہیں.
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حالات کو پرامن بنائیں، اپنی تعلیمی، معاشی،سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھیں،سائنس ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ ہر شعبے سے وابستہ رہیں، زندگی کی دوڑ میں دوسرے لوگوں سے آگے بڑھیں تخریب کاری کی سیاست و ہنگاموں سے دور رہ کر اپنی تمام تر توجہ آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے پر مرکوز کریں یہی ایک واحد راستہ ہے جس سے ہم کامیابیاں اور عروج پا سکتے ہیں، ظلم و زیادتی سے دور رہیں جس سے اسلام نے بھی دوری اختیار کی ہے، علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کے رابطے میں رہیں کیونکہ سماج پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے، اپنے مسلمان ہونے پر حرف نہ آنے دیں، مسلم نوجوانوں کو غلط راستے پر جانے سے روکیں، غربت، جہالت، فاقہ کشی، جرائم و بے روزگاری ختم کرنے پر زور دیں، سستی و غفلت سے پرہیز کریں، مسکینوں اور یتیموں و حاجت مندوں کو اپنے سے محروم نہ کریں، ان کو ان کی خوشیوں سے محروم نہ کریں، راتوں کو خرافات کی مجلس سے دور رہیں، اپنے احساسات کو مردہ نہ ہونے دیں، مسلمانوں کی کھلم کھلا بے حرمتی کو روکیں، فرائض کی انجام دہی سے غافل نہ ہوں، اتحاد اور اجتماعیت کو فروغ دیں یہ ہمارے تمام مسائل کا حل ہے، خیرات وصدقات کو ادا کریں.لوگوں کو طبی امداد فراہم کریں، ہر وہ کام کریں جو اللہ کی رضا اور خوشنودی والا ہو اور ہر اس چیز سے پرہیز کریں جو اللہ کی غضب کو دعوت دینے والی ہو.
جب تک یہ خصوصیات ہمارے اندر رہیں ہم پوری دنیا کے امام و قائد ورہبر بنے ہوئے تھے لیکن جب ہم اسلام کی ان مفید اور قیمتی تعلیمات سے دور ہوتے گیے تو ذلت و رسوائی، پسماندگی، مغلوبیت غربت، ہمارا مقدر بن گئی، اگر آج بھی ہم ان تعلیمات پر غور کریں اور صدق دل سے اس پر عمل پیرا ہوں اور اپنی زندگیوں میں اسے اتارنے کی کوشش کریں تو آج بھی ہم ساری دنیا میں قیادت کرسکتے ہیں اور ہمیں دین و دنیا میں کامیابی اور سرخ روئی حاصل ہوگی. اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہوگی اس کے علاوہ کوئی بھی راستہ ذلت و رسوائی وتباہی وبربادی کی طرف لے جاتا ہے.
اللہ ہم تجھ سے تیری نصرت وتائید کے طلبگار ہیں تو ہمیں اپنی طرف سے فتح و نصرت سے ہمکنار فرما، قوم مسلم باطل کے نرغے میں ہے اپنی طرف سے دست غیب سے مدد فرما اور ہم سب کی حفاظت فرما، دنیا میں ہمیں امن و سکون، شوکت دے اور ظالموں کو مغلوب کردے اور ہم سب کو تمام دنیوی واخروی مقاصد میں کامیابی دے ۔آمین
afrozgulri@gmail.com Follow us on Whatsapp : Dar Al Zikr Foundation 7379499848 15/10/2019