انتخابی بانڈ پر روک معاملے کی سماعت جنوری 2020 میں

نئی دہلی: انتخابی بانڈ پر روک سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ اگلے برس جنوری میں سماعت کرے گا۔ عرضی گزار ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گَوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ کے معاملے کی خصوصی وضاحت کی۔

بھوشن نے دلیل دی کہ خود ریزرو بینک نے کہا ہےکہ اس منصوبے سے کالا دھن اور منی لانڈرنگ کو بڑھاوا ملے گا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت جنوری 2020 میں کرے گی۔ سماعت کے دوران بنچ نے دریافت کیا کہ منصوبہ شروع کرنے کے ایک سال بعد اس پر روک کے مطالبے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بھوشن نے دلیل دی کہ اے ڈی آر نے گزشتہ برس ہی اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی تھی جس پر اس برس اپریل میں حتمی حکم جاری کیا گیا تھا۔

عرضی میں کہا گیا ہےکہ اس سے سیاسی پارٹیوں کو غیر محدود کارپوریٹ عطیہ کے دروازے کھل گئے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے نامعلوم عطیات دیے جا رہے ہیں، جس کا ملک کی جمہوریت پر سنگین اثر پڑسکتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading