نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے انتخابی (الیکٹورل) بانڈ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں کانگریس کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ شامل ہوئے۔
اراکین پارلیمنٹ اپنے ہاتھوں میں الیکٹورل بانڈ کے متعلق تحریر نعروں والی تختیاں لئے ہوئے تھے۔ کانگریس لیڈروں نے نعرے بازی کی اور انتخابی بانڈ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی كاے وضاحت کرنی چاہئے ۔ کانگریس کا الزام ہے کہ انتخابی بانڈ کے ذریعے رشوت دی جا رہی ہے۔ صرف حکمراں پارٹی کو ہی انتخابی چندہ مل رہا ہے۔
احتجاج مظاہرے میں راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈ ر غلام نبی آزاد، کانگریس کے لیڈر آنند شرما اور لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈرادھیر رنجن چودھری شامل ہوئے۔
واضح رہے کہ کانگریس پارلیمنٹ میں سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی انتخابی بانڈوں کا معاملہ اٹھا رہی ہے اور اسے ایک ’بڑا گھوٹالہ‘ قرار دے رہی ہے۔ جمعرات کو بھی کانگریس اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے لوک سبھا میں اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔ کانگریس نے راجیہ سبھا میں یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو لوک سبھا میں اٹھائیں گے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
