اناؤ عصمت دری کی متاثرہ کے ساتھ پیش آئے سڑک حادثہ کے بعد بی جے پی بری طرح گھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک سراپا احتجاج ہیں۔
اس معاملہ پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے ملزم بی جے پی رکن اسمنبلی سینگر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’ہم کلدیپ سینگر جیسے لوگوں کی سیاسی پشت پناہی آخر کیوں کرتے ہیں اور کیوں متاثرہ افراد کو اکیلے لڑائی لڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے؟‘‘
Why do we give people like Kuldeep Sengar the strength and protection of political power and abandon their victims to battle for their lives alone?
This FIR clearly states that the family was threatened and apprehensive. It even mentions the possibility of a planned accident.
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) July 30, 2019
پرینکا گاندھی نے مزید کہا، ’’مقدمہ میں صاف ہے کہ خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انہوں نے حادثہ کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا۔ خدا کے واسطے وزیر اعظم صاحب، مجرم اور اس کے بھائی کو آپ کی پارٹی سے مل رہے سیاسی تحفظ کو دینا بند کیجیے۔‘‘


ادھر لکھنؤ میں اناؤ عصمت دری متاثرہ کے حق میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاجی مظاہرہ کے دوارن یو پی پولس نے متعدد کانگریسی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
Congress Party workers arrested during a protest in Lucknow demanding justice for the Unnao rape survivor. #BJPSackSengar ##YogiRajGundaRaj pic.twitter.com/OeSqTXua5q
— Congress (@INCIndia) July 30, 2019
غور طلب ہے کہ اتوار کے روز اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ اپنے اہل خانہ اور وکیل کے ساتھ رائے بریلی جیل میں قید اپنے چچا سے ملاقات کے لئے جا رہی تھی۔ اس درمیان ایک ٹرک نے ان کی کار کو زوردار ٹکر مار دی۔ اس حادثہ میں متاثرہ کی چچی اور خالہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں، جبکہ متاثرہ اور ان کے وکیل کو شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ زخمی حالت میں دونوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اس حادثہ کے بعد بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس معاملہ میں 10 کے خلاف نامزد رپورٹ اور 15 سے 20 دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
