امریکہ کے 40 ہزار فوجی سمندر میں لاپتہ، تلاش کی مہم شروع — آخر ماجرا کیا ہے؟

امریکہ نے ایک نہایت حساس اور تاریخی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد ہے دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک سمندر میں لاپتہ ہونے والے اپنے فوجیوں کا سراغ لگانا۔ اندازہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف جنگوں میں 40 ہزار سے زائد امریکی فوجی سمندر میں لاپتہ ہوگئے تھے جن کا آج تک کوئی پتا نہیں چل سکا۔

یہ مہم ڈیفنس پی او ڈبلیو/ایم آئی اے اکاؤنٹنگ ایجنسی (DPAA) اور امریکی سائنس دانوں کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت ایک جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس کی مدد سے سمندر کی تہہ میں موجود باریک ذرات سے ڈی این اے نمونے جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس مقام پر کبھی انسانی باقیات موجود تھیں یا نہیں۔

"سمندر کی گہرائی میں تحقیق کرنا نہایت مشکل کام ہے کیونکہ وقت کے ساتھ پانی میں موجود باقیات بکھر جاتی ہیں، جنہیں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس خصوصی ڈی این اے ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔”

1944 کا حادثہ، آج بھی باقی ہے ثبوت

سن 1944 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ کا ایک لڑاکا طیارہ گرومن ٹی بی ایف ایونجر (Grumman TBF Avenger) سائیپن کے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس طیارے میں تین فوجی سوار تھے جن میں سے دو آج تک نہیں مل سکے۔
یہ طیارہ اب بھی سمندر کی تہہ میں موجود ہے اور اس کے گرد بڑے بڑے مرجانی پتھروں (coral reefs) نے اسے گھیر رکھا ہے۔

اب سائنس دان اس علاقے کی مٹی اور گاد کے نمونے تجربہ گاہوں میں بھیج رہے ہیں تاکہ ڈی این اے کے ذریعے ان لاپتہ فوجیوں کے نشانات یا باقیات کی تصدیق کی جا سکے۔

امریکہ کی یہ نئی مہم ایک بار پھر دنیا بھر میں "لاپتہ فوجیوں” کے مسئلے کو اجاگر کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ماضی میں جنگوں میں شہید ہونے والے فوجیوں کی شناخت ممکن ہو سکے گی — اور یہ تاریخ کے گمشدہ ہیروز کو عزت کے ساتھ واپس لانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading