نیویارک:امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے تارکینِ وطن سے متعلق دیا گیا حالیہ بیان سیاسی اور سوشل میڈیا حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ امیگریشن اور معاشرے میں مذہب کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے میئر ممدانی نے اسلامی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ کو تارکینِ وطن کے بارے میں اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرتے وقت مختلف تہذیبی و تاریخی مثالوں سے سبق لینا چاہیے۔
میئر ممدانی نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں ہجرت ایک بنیادی واقعہ ہے۔ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی ہجرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکہ سے مدینہ کا سفر صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ مشکل حالات میں نقل مکانی انسانی تاریخ کا ایک مستقل حصہ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ پناہ اور مہمان نوازی جیسے تصورات معاشرتی ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں۔
میئر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد امیگریشن پالیسی پر مذہبی بنیاد پر دلائل دینا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی زاویہ سامنے رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ، غربت اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہو کر ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانا ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض افراد نے اسے انسانی اقدار اور ہمدردی پر مبنی اپیل قرار دے کر سراہا، جبکہ ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عوامی پالیسی سے متعلق مباحث میں مذہبی حوالوں کا استعمال کس حد تک مناسب ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق میئر ممدانی ماضی میں بھی سماجی انصاف اور شناخت کی سیاست کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد امریکہ میں امیگریشن، شناخت اور مذہب کے کردار پر جاری بحث ایک بار پھر تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔