امریکہ میں کووڈ کا نیا ویرینٹ ’نمبس‘ تشویش کا سبب، گلے میں شدید خراش نئی علامت، صحت ایجنسیاں چوکس

کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔ خبر ہے کہ امریکہ میں کووڈ کا نیا سب ویرینٹ دستک دے چکا ہے، جس کے شکار مریضوں میں نئی علامت دیکھی جا رہی ہے۔ فی الحال عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امریکی صحت ایجنسیاں اس پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ اس نئے ویرینٹ کا نام NB.1.8.1 (نمبس) ہے۔

اس سے پہلے یہ ویرینٹ چین میں بھی مل چکا ہے۔ اس کے مریض کو گلے میں دردناک خراش ہوتی ہے، اس لیے اسے ریزر بلیڈ تھروٹ نام بھی جانا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں سینٹرس فار ڈِزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ 7 جون کو ختم ہوئے 2 ہفتہ کے وقفے میں اس ویرینٹ کے تقریباً 37 فیصد معاملے سامنے آچکے تھے۔ صحت اہلکاروں نے انتباہ کیا ہے کہ یہ ویرینٹ دنیا کے ایک تہائی معاملوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ نمبس کے شکار کچھ مریض اس سے گلے میں ہونے والے درد کا موازنہ کانچ کے ٹکڑوں کو نگلنے سے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض میں ناک بند ہونے یا ناک بہنا، تھکان، ہلکی کھانسی، بخار، جسم میں درد، اسہال جیسی علامات بھی دیکھی جا رہی ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (این آئی وی) نے کہا ہے کہ وہ جینوم ترتیب ہو رہا ہے اور اومیکرون کے چار نئے ذیلی قسموں کو الگ کر رہا ہے، جن کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ وہ ہندوستان میں کووڈ معاملوں میں حال میں ہوئے اضافہ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے تحت پنے واقع این آئی وی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر نوین کمار نے کہا کہ اس کوشش سے ٹیکے کی تاثیر کا اندازہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اپریل کے دوسرے ہفتہ سے کووڈ معاملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مسٹر کمار نے کہا کہ پورے ہندوستان میں نمونوں کے جینوم ترتیب کے بعد اومیکرون کے چار ذیلی اقسام ایل ایف .7، ایکس ایف جی، جے این .1.16 اور این بی .1.8.1 پائے گئے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading