امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ممبئی یوتھ کانگریس کا ’نیائے ستیہ گرہ‘ احتجاج
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن: ورشا گائیکواڑ
یوتھ کانگریس عوامی مسائل پر ستیہ گرہ کے ذریعے آواز اٹھائے گی: زینت شبرین
ممبئی: امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے خلاف ممبئی یوتھ کانگریس نے ’نیائے ستیہ گرہ‘ کے عنوان سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا، جس میں سینکڑوں کارکنان اور عہدیداران نے شرکت کی۔ اس موقع پر کانگریس کے لیڈروں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کسان مخالف قرار دیا اور فوری طور پر اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
راجیو گاندھی بھون میں منعقدہ اس احتجاجی پروگرام کے دوران ورشا گائیکواڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ کیا گیا تجارتی معاہدہ ملک کے کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملے گی اور وہ مزید معاشی بحران کا شکار ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت نے یہ معاہدہ کر کے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیرف پالیسیوں کے باعث کسان پہلے ہی پریشان ہیں، جبکہ بے موسم بارش نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کسانوں کو کوئی ٹھوس مدد فراہم نہیں کر رہی اور بجٹ میں بھی ان کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک کی ترقی کے بجائے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی گیس کی قلت کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور گھریلو استعمال کے لیے بھی گیس دستیاب نہیں ہے، جس کے باعث لمبی قطاریں لگ رہی ہیں اور بلیک مارکیٹنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں چھوٹے ہوٹل اور کاروبار گیس کی عدم دستیابی کے باعث بند ہونے لگے ہیں، جبکہ دیگر ریاستوں سے روزگار کے لیے آنے والے افراد بھی اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پانی کی قلت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حکومت ناکام ہو رہی ہے، لیکن ان مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ زینت شبرین نے مزید کہا کہ یوتھ کانگریس کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور طلبہ کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ستیہ گرہ تحریک کے ذریعے مسلسل آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت فوری طور پر امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کو منسوخ کرے اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔
اس احتجاج میں امین پٹیل، سریش چندر راج ہنس، بھاونا جین، راجپت یادو، ارشد اعظمی، کچرو یادو، روی باوکر، کیتن شاہ، حسین شیخ، عبدالسمیع، نکھل روپاریل، فرحان منصوری، گنیش شیگر، اجے مشرا، شیکھر جگتاپ، پراگیا دھولے، تیجس چاندورکر، امن دیپ سینی، التمش قریشی، منوج سنسارے، سیم علی شیخ اور دیگر لیڈران و کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔یوتھ کانگریس نے اعلان کیا کہ یہ ستیہ گرہ احتجاج آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا، اور اس میں دیگر سینئر لیڈران بھی شامل ہوں گے تاکہ کسانوں اور عوامی مسائل کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
MRCC Urdu News 6 April 26.docx