امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری، پاکستانی حکام بھی شریک

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے۔ دو سرکاری عہدیداروں بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔

ایک ذرائع کے مطابق ابتدائی بات چیت ’مثبت‘ رہی ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مختصر وقفے کے دوران سہ فریقی مذاکرات آٹھ سے ساڑھے آٹھ کے درمیان دوبارہ شروع ہوں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر اپنی طویل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ارکان کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران ’جیت رہا ہے جب حقیقت میں ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ ہار رہے ہیں اور بُری طرح ہار رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہو چکی ہے اور ان کا فضائی دفاعی نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے۔ ریڈار تباہ ہو گئے ہیں۔

اُنھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ایران کے میزائل پروگرام، ڈرون فیکٹریاں اور ڈرونز کو ختم کر دیا گیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔‘

ایران کی جانب سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اب دُنیا بھر کے ممالک کے حق میں آبنائے ہرمز کو صاف کرنا شروع کر رہا ہے۔‘

شیئر, میڈیا کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران جیت رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بری طرح ہار رہا ہے: صدر ٹرمپ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading