ہریانہ میں اکثریت سے دور رہنے کے بعد بی جے پی نے حکومت سازی کے لیے جوڑ-توڑ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کوشش تو جمعرات کو ہی شروع ہو گئی تھی اور اب یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ گوپال کانڈا سمیت 6 آزاد اراکین اسمبلی جو دہلی پہنچے ہیں، کسی بھی وقت بی جے پی کے ساتھ جانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق گوپال کانڈا کے بھائی گووند کانڈا نے تو واضح لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا کہ ’’ہماری بی جے پی سربراہ امت شاہ کے ساتھ بات چیت ہو گئی ہے اور ہم بی جے پی کے ساتھ جائیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ ہریانہ اسمبلی انتخاب 2019 کا جو نتیجہ 24 اکتوبر کو برآمد ہوا، اس میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ بی جے پی جو 75 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی تھی وہ 40 سیٹوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ کانگریس نے 2014 اسمبلی الیکشن کے مقابلے کافی اچھا کیا ہے لیکن پھر بھی وہ 31 سیٹوں تک ہی پہنچ سکی۔ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان جے جے پی 10 سیٹیں حاصل کر ’کنگ میکر‘ کے کردار میں ابھر کر سامنے آئی، لیکن جس طرح سے بی جے پی آزاد امیدواروں کو اپنی جھولی میں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اب جے جے پی کی اہمیت بہت زیادہ معلوم نہیں پڑ رہی۔
قابل غور ہے کہ آزاد اراکین اسمبلی میں کچھ ایسے ہیں جو بی جے پی سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے بغاوت کر کے آزاد میدان میں کھڑے ہوئے تھے اور اب پارٹی انھیں دوبارہ اپنے پاس بلا رہی ہے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب یہ امیدوار اپنی مرضی کے مطابق بی جے پی سے ’منھ مانگی‘ قیمت پائیں گے۔ جمعرات کو گوپال کانڈا سمیت 6 اراکین اسمبلی کو ہریانہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنیتا دگل چارٹرڈ طیارہ سے دہلی لے کر پہنچ گئیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی نے انھیں ’گھیرنا‘ 24 اکتوبر کو ہی شروع کر دیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان سبھی اراکین اسمبلی نے بی جے پی کو اپنی حمایت دینے کی بات کہی ہے۔ خبروں کے مطابق ان سبھی 6 اراکین اسمبلی کی دیر رات بی جے پی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات بھی ہوئی۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ امت شاہ خود دیر رات تک ہریانہ میں حکومت سازی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے میٹنگ کرتے رہے۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق گوپال کانڈا اپنے ساتھی آزاد اراکین اسمبلی کے ساتھ آج انتہائی اہم میٹنگ کرنے والے ہیں جس میں یہ طے پائے گا کہ بی جے پی کو کن شرائط پر حمایت دی جائے۔ گوپال کا کہنا ہے کہ سبھی اراکین اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں اور جلد ہی وہ کچھ اعلان کر سکتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
