الور:(ایجنسیز)موب لنچنگ کےلئے پورے ملک میں بدنام ہوچکے الورضلع میں ہفتہ کوایک بارویسی ہی بڑی واردات سامنے آئی ہے۔ یہاں بھیڑمیں شامل تقریباً 100 سے زیادہ لوگوں نےایک نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی کرڈالی۔
بھیڑنےبیچ بچاو¿ کرنےآئے پولیس اہلکاروں کوبھی نہیں بخشا اوراسے بھی لات گھونسے سے مارتے رہے۔ متاثرہ نوجوانوں کوسنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ وہاں اس کا علاج کیاجارہا ہے۔اطلاعات کےمطابق موب لنچنگ کی یہ واردات الورکےصدرتھانہ علاقےکے پاپڑی موڑپر دوپہرمیں ہوئی۔ الور- بھواڑی شاہراہ پربھیڑنے ہریانہ نمبرکی ایک کارمیں سوارنوجوان کو پکڑکراس کی پٹائی کردی۔ اس دوران کارمیں سواردولوگ بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ گاڑی ڈرائیورہریانہ کے پنہاما کےسکراوا گاو¿ں کے باشندہ حاکم علی کی 100 سے زیادہ لوگوں کی بھیڑنے پکڑکراس کی جم کرپٹائی کردی۔
اطلاعات کے بعد موقع پرپہنچی صدر تھانہ پولیس نے زخمی حاکم علی کوبھیڑسےچھڑوا کرالورکےراجیو گاندھی اسپتال میں داخل کرایا ہے۔ وہاں ٹراما سینٹرمیں اس کا علاج چل رہا ہے۔بھیڑجب حاکم کی پٹائی کررہی تھی توصدرتھانےکے ہیڈ کانسٹبل سندرسنگھ نے بہادری دکھاتےہوئےبھیڑسے نوجوان کوبچالیا۔ تاہم اس دوران بھیڑنے کانسٹبل سندرسنگھ کوبھی لات گھونسےمارے۔ پھربھی کانسٹبل نےنوجوان حاکم کوان سےبچالیا۔
ورنہ آج ایک بارپھربھیڑ ایک نوجوان کی جان لے لیتی۔پرچہ بیان میں حاکم علی نےبتایا کہ وہ جنید کےساتھ جارہا تھا۔ راستےمیں رام گڑھ میں جنید نےاے ٹی ایم سے پیسے نکالے تھے۔ اسی دوران جنید کی کسی نوجوان سےکہا سنی ہوگئی تھی توانہوں نےمارپیٹ شروع کردی۔ اس کےبعد وہ وہاں سےکسی طرح سے بچ کرکارسےبھاگ نکلے۔ اس پرلوگوں نےپیچھا کرتے ہوئےکتھورٹول سے پہلے پاپڑموڑپران کو پکڑلیا۔ بعد میں کارمیں توڑپھوڑکرکے پٹائی شروع کردی۔ پھرپولیس نے آکربچایا۔