اعلیٰ قربانی کی مثال: بہن نے موت سے پہلے گرتی گاڑی سے بہن بھائیوں کو باہر نکالا

سعودی دوشیزہ ریما مناع راشد کو موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنی نئی ملازمت شروع کرنے کا وقت نہیں ملا اور وہ ایک سفر کے دوران اہل خانہ کو بچانے کی کوشش میں خوفناک حادثے کا شکار ہو کے انتقال کر گئیں۔بد قسمت خاندان موسم گرما کی تعطیلات کے لیے عسیر کے علاقے میں ایک پرفضا گاؤں حسوہ میں تھا۔ اس ہولناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک قریبی رشتہ دار یحییٰ الجرعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ’’یہ سانحہ بہت بڑا اور دلخراش ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے دن یہ پورا خاندان جس میں والد دو بھائی اور تین بہنیں شامل تھیں گاڑی پر سوار تھے جب حسوہ کے راستے پر ایک پہاڑی علاقے میں اونچائی پر پہنچنے کی کوشش کے دوران گاڑی اچانک رک گئی۔ اس کے بعد باپ اور بیٹا راشد وجہ جاننے کے لیے گاڑی سے باہر نکلے۔

مگر اچانک گاڑی بے قابو ہو کے نیچے گرنے لگی، 21 سالہ ریما نے فورا گاڑی کا دروازہ کھولا اور اپنی بہنوں کو باہر نکلنے میں مدد کی، اس کے بعد ریما جو کہ خود باہر نکل سکتی تھی مگر اپنے بھائی احمد کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔اچانک کار قلابازیاں کھانے لگی اور تین سے زیادہ بار الٹنے کے بعد، بھائی احمد گاڑی سے باہر گر گیا جس کے سر پر چوٹ آئی۔ آن ہی آن میں گاڑی نیچے کھائی میں جا گری اور اس میں موجود ریما سر پر چوٹ لگنے سے جان بحق ہو گئيں۔

انہوں نے کہا کہ ریما نے تمام عمر اپنے خاندان کی ذمہ داری نبھائی اور موت کو سامنے دیکھ کے بھی اپنی جان پر کھیل کر انہیں بچاتی رہی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading