اشوک کھرات معاملے سے وزیراعلیٰ…..، مہاراشٹر میں کانگریس کا تن ظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے کے لیے…

اشوک کھرات معاملے سے وزیراعلیٰ دیوالی کے وقت ہی واقف ہوچکے تھے، پھر چھ ماہ تک خاموشی کیوں؟: ہرش وردھن سپکال

روپالی چاکنکر کے استعفے کے بعد دیگر ملزمان پر کارروائی کب ہوگی؟ مہاراشٹر میں وزراء پر ہی تشدد، ستارا واقعہ نے ووٹ چوری کے خدشات کو تقویت دی

ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام عائد کیا ہے کہ خودساختہ بابا اشوک کھرات کے معاملے کی معلومات وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو دیوالی کے آس پاس ہی حاصل ہو چکی تھیں، اس کے باوجود کئی ماہ تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جب اکتوبر اور نومبر سے کھرات کے مبینہ غیر قانونی معاملات سامنے آ رہے تھے اور محکمہ داخلہ شواہد بھی جمع کر رہا تھا تو پھر چھ ماہ تک خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے مہاراشٹر میں ایک منفی اور تشویشناک بحث کو جنم دیا ہے، جس کا فوری اور فیصلہ کن خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی تفتیشی ٹیم کو مزید وسائل فراہم کیے جائیں، ٹاسک فورس تشکیل دی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

بلڈھانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اشوک کھرات کا معاملہ اندھی عقیدت کا نتیجہ ہے اور اس سے سبق سیکھتے ہوئے سماج میں سائنسی فکر کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں مذہبی اور سماجی بنیادوں پر اختلافات اور نفرت کو ہوا دینے والے عناصر ہی ایسے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو دانستہ طور پر طول دے رہی ہے اور اس کے ذریعے اپنے اتحادیوں پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپالی چاکنکر کے استعفے کے بعد بھی دیگر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔

سپکال نے مزید کہا کہ سماجی ذمہ داریوں سے غفلت کے باعث ہی ایسے واقعات جنم لیتے ہیں اور بعض افراد توہم پرستی کا شکار ہو کر نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مہاراشٹرتوہم پرستی کے خاتمے کے لیے قانون بنانے والی اولین ریاست ہے اور ڈاکٹر نریندر دابھولکر نے اس مقصد کے لیے طویل جدوجہد کی تھی، جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ انہوں نے ریاست کی سیاسی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ستارا ضلع پریشد کے صدر کے انتخاب کے دوران حکمراں اتحاد کے اندر ہی تنازع سامنے آیا اور دو وزراء شمبھوراجے دیسائی اور مکرند پاٹل نے خود دعویٰ کیا کہ انہیں پولیس کی جانب سے مارا گیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ جمہوری نظام کی گرتی ہوئی حالت کا ثبوت ہے اور اس سے ووٹ چوری کے خدشات کو بھی تقویت ملی ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے دعوے کرنے والے لیڈر کو اپنی مالی سرگرمیوں کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹھیکے قریبی افراد کو دیے گئے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپنی آمدنی اور اثاثوں میں اضافے کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے اور سابقہ وعدوں، جیسے بے سہارا افراد کے لیے زمین دینے، کی بھی وضاحت کی جائے۔ سپکال نے کہا کہ جس طرح اشوک کھرات کا معاملہ سامنے آیا ہے، اسی طرح بدعنوانی کی ایک اور سنگین شکل بھی ریاست میں ابھر کر سامنے آ رہی ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

مہاراشٹر میں کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے کے لیے ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ کا آغاز

مرکزی مبصرین اور ریاستی سینئر لیڈرز کو ذمہ داریاں سونپی گئیں

ممبئی: کانگریس پارٹی کی تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے کے لیے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ شروع کیا گیا ہے، جس کا مہاراشٹر میں باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے نے اس مہم کے تحت مہاراشٹر کے لیے 37 مرکزی مبصرین اور ریاست کے سینئر لیڈرز کو مختلف ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

اس مہم میں شامل نمایاں لیڈرز میں بالا صاحب تھورات، نانا پٹولے، ستیج پاٹل، مانک راؤ ٹھاکرے، عارف نسیم خان، امیت دیشمکھ، یشومتی ٹھاکر اور نتن راؤت سمیت سابق وزراء، اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور دیگر سینئر عہدیداران شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 183 اراکین اس فہرست کا حصہ ہیں۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے مطابق اس کمیٹی کے ارکان ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور مقامی عہدیداران و کارکنان سے براہ راست رابطہ قائم کرتے ہوئے تنظیمی ڈھانچے کو ازسرنو مضبوط کریں گے۔ اس عمل کے دوران بوتھ سطح سے لے کر ریاستی سطح تک پارٹی کو فعال بنانا، مخلص کارکنان کو آگے لانا، ذمہ داریوں کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا اور خواتین و نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینا اس مہم کے بنیادی مقاصد ہیں۔ اس مہم کے تحت ضلع صدور سمیت مختلف عہدوں پر تقرریاں شفاف طریقے سے کی جائیں گی، تاکہ تنظیمی ڈھانچہ مزید مضبوط اور متحرک ہو سکے۔

MPCC Urdu News 24 March 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading