ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ میں کانگریس پارٹی آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مہمان خصوصی کے طورپر مہاراشٹرکانگریس کے انچارج محترم کنال چودھری نے مدعو تھے ۔انھوں نے کانگریس کے تمام خواہش مند امیدواروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سابقہ چیئرمین ناندیڑ میونسپل کارپوریشن ڈاکٹر عرشیہ کوثر نے پارٹی کے تمام عہدیداران کے سامنے یہ بات کہی کہ مسلم سماج اور کانگریس پارٹی کا رشتہ مٹی اور پودے کی طرح ہے۔تاریخ میں بدرالدین طیّب اور رحمت اللہ جیسے مسلم قائدین کانگریس کے صدر رہے چکے ہیں۔
کانگریس پارٹی کا جلسہ عام سب سے پہلے کسی گاو¿ں میں ہوا تھا وہ فیض پور تھا۔اسلئے سرکردہ مسلم قائدین اور عام مسلمانوں نے کانگریس کیساتھ پوری وفاداری سے کام کیا اسلئے مہاراشٹرمیں آج مسلم سماج کو امیدواری دینے میں پارٹی کو کوئی دشواری نہیں آنی چاہئے۔محترمہ نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کی آبادی کے لحاظ سے 30 امیدوار مہاوکاس آگھاڑی کو اسمبلی چناو¿ میں اتارنے چاہئے۔ ناندیڑ شمال سے نا صرف مسلم امیدوار بلکہ تعلیم یافتہ مسلم امیدوار کو موقع دے جو اسمبلی میں اپنی آواز کو اٹھاسکے۔اسکے علاوہ ڈاکٹر عرشیہ کوثر نے کہا کہ آج تک بھی مہاراشر میں کانگریس پارٹی نے مسلم خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا۔
گزشتہ چناومیں اشوک چوہان صاحب نے اس بات کو نظرانداز کردیا تھا، جب کی آج میرابھیندر اور ساکری دھولے سے آزاد پارٹی کی دو خاتون رکن اسمبلی ہیں۔ اڑیسہ سے کانگریس نے صوفیا صدف کو ایسے حلقے سے امیدواری دی جہاں مسلم صرف 8 فیصدی تھے اور وہ منتخب ہوگئی۔پھر آج مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ میں ایک مسلم خاتون کو پارٹی سے امیدواری مشکل نہیں ہوگا۔ آج مسلم سماج اسمبلی چناو¿ میں پوری یکجہتی کے ساتھ ڈاکٹر عرشیہ کا ساتھ دینے کےلئے تیّار ہئے۔
اور سماج نے انھیں اس بات کا بھی یقین دلایا کہ ایم۔آئی۔ایم پارٹی کے امیدوار کے خلاف وہ متحد ہوکر ایک تعلیم یافتہ سیکیولر امیدوار کو منتخب کریں گے۔اور اگر کانگریس پارٹی انھیں دوبارہ نظرانداز کرکے ٹکٹ نہیں دیتی ہئے توبطور آزاد امیدوار کھڑا رہنے کی صلاح دی جارہی ہے ۔ڈاکٹر عرشیہ نے ٓآخرمیں کہا کہ وہ سماج کی بات کو پہلے اہمیت دیں گی یہ انکا فرض ہئے۔ ڈاکٹر عرشیہ کی پُرمغز تقریر سننے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈران کافی متاثرہوئے جبکہ دیگر خواہشمندامیدوار پریشان نظرآرہے ہیں۔