اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے سنیچر اور جمعے کی درمیانی شب ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ تہران کے وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے چند منٹ قبل تک اسرائیلی حملے جاری تھے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے ایران کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قیام امن کے لیے ایران اور اپنے دیگر پڑوسی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
ایرانی فوج نے صبح سویرے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اپنے دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ایران کی فوج کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’گزشتہ رات ایران کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے میزائلوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘ اس سے قبل ایران کی فضائی دفاعی افواج نے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے تہران، خوزستان اور ایلام صوبوں میں اس کے اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ کچھ مقامات پر ’محدود نقصان‘ ہوا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ایک نئے بیان میں نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر اپنے حالیہ حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان مقامات کا انتخاب ممکنہ اہداف کی فہرست ’براڈ ٹارگٹ بینک‘ سے کیا ہے اور وہ ’اس فہرست میں سے اضافی اہداف کا انتخاب کرکے ضرورت پڑنے پر ان پر بھی حملہ کرکے گا۔‘
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی اور واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔