اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی 4فیصدآبادی کو ہلاک کر چکا ہے

c : 28/جون( ایجنسیز)اسرائیلی اخبار ہآرتز” نے جمعے کے روز اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے، جو علاقے کی مجموی آبادی کا 4 فی صد ہے۔ یہ ہلاکتیں براہ راست اسرائیلی حملوں یا جنگ کے بالواسطہ اثرات کے باعث ہوئیں، جن کا آغاز 7 اکتوبر 2023 سے ہوا تھا۔ اخبار کے مطابق، یہ جنگ اکیسویں صدی کی سب سے خونی جنگ بن چکی ہے۔اخبار نے بین الاقوامی محققین کے ایک غیر شائع شدہ مطالعے کا حوالہ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار حقیقت سے کم ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ بھوک، بیماری اور خوراک کی تقسیم کے مراکز پر اسرائیلی فائرنگ نے غزہ کی جنگ کو غیر معمولی طور پر مہلک بنا دیا ہے۔ اخبار کے مطابق، اگرچہ اسرائیل میں بہت سے سرکاری ترجمان اور صحافی فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز کہتے ہیں، لیکن عالمی ماہرین کا موقف ہے کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف معتبر ہیں بلکہ ممکن ہے کہ حقیقت سے کم ہوں۔رپورٹ میں لندن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سباگات کی قیادت میں کی گئی تحقیق کو سب سے جامع قرار دیا گیا، جس میں فلسطینی سیاسی ماہر ڈاکٹر خلیل الشقاقی کی معاونت بھی شامل تھی۔ اس تحقیق میں غزہ کے دو ہزار خاندانوں پر مشتمل آبادی کا سروے کیا گیا،

جس سے معلوم ہوا کہ جنوری 2025 تک تقریباً 75 ہزار 200 فلسطینی جنگ کے دوران جاں بحق ہو چکے تھے، جن میں اکثریت اسرائیلی بم باری کا نشانہ بنی۔ اس وقت وزارتِ صحت نے ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار 660 بتائی تھی، یعنی سرکاری اعداد و شمار میں تقریباً 40 فیصد کمی پائی گئی۔اگرچہ یہ تحقیق ابھی تک نظرثانی کے مرحلے سے نہیں گزری، لیکن اس کے نتائج لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ایک علیحدہ تحقیق سے کافی حد تک مشابہ ہیں۔ اس میں بھی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار اور اصل تعداد کے درمیان یہی فرق ظاہر کیا گیا تھا۔پروفیسر سباگات کے مطابق، غزہ کی جنگ کو دیگر حالیہ تنازعات مثلاً شام، یوکرین اور سوڈان کے مقابلے میں غیر جنگجوؤں کی سب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے سبب منفرد حیثیت حاصل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں 56 فی صد خواتین اور بچے تھے، جو کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی جنگ میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ سباگات کی ٹیم کی طرف سے جمع کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ میں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کا تناسب دنیا کے تقریباً تمام حالیہ تنازعات سے دو گنا ہے، جن میں کوسوو، ایتھوپیا، شام، کولمبیا، عراق اور سوڈان شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج اور حکام کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں 20 ہزار کے قریب حماس اور دیگر گروہوں کے جنگجو مارے جا چکے ہیں، لیکن اس دعوے کے ساتھ نہ تو کوئی ناموں کی فہرست دی گئی ہے اور نہ ہی شواہد۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے جنگجوؤں کی شناخت کے لیے کوشش کی تو بمشکل چند سو افراد کے شواہد ہی جمع ہو سکے۔رپورٹ میں ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ حالیہ ہفتوں میں امدادی مراکز پر خوراک لینے کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے پانچ سو سے زائد فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان سڑکوں پر فائرنگ کی جو خوراک کی تقسیم کے مراکز کی طرف جاتی ہیں۔ اخبار نے ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں کو امدادی مراکز کے قریب آنے والے شہریوں پر گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تھے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اس رپورٹ کو "بد نیتی پر مبنی جھوٹ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے

۔اس دوران، غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن، جسے ایک امریکی نجی تعمیراتی کمپنی کی معاونت حاصل ہے، پچھلے ایک ماہ کے دوران غزہ کے جنوبی علاقوں میں چار مقامات پر خوراک تقسیم کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں شہریوں کو نقصان پہنچا، لیکن اس نے دانستہ فائرنگ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔اس تمام تر صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اخبار نے واضح کیا کہ غزہ کی جنگ نہ صرف ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے بلکہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بھی جدید دور کی مہلک ترین جنگ بن چکی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading