اسرائیلی فوج کی غزہ میں الشفاء ہسپتال پر بمباری میں متعدد شہری شہید اور زخمی

غزہ کی پٹی میں جارحیت کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر الشفاء ہسپتال پر بمباری کی گئی ہے۔ آج پیر کے روز اسرائیلی طیاروں کی خصوصی سرجیکل عمارت پر بمباری کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی ٹی وی نے پیرکے روز اطلاع دی ہے کہ الشفاء ہسپتال کے داخلی دروازے اور اس کے سرجیکل وارڈ کی عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں پانچ افراد شہید ہوگئے۔ ان میں زیادہ تر بچے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے پیر کے روز بتایا کہ خان یونس کے مشرقی اور شمالی علاقوں پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں درجنوں افراد شہید اور زخمی بھی ہوئے۔

ایجنسی نے غزہ میں طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کل سے جبالیہ پر اسرائیلی بمباری میں 100 سے زائد افراد مارے گئے جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں پرتشدد دھماکوں نے فضا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ہزاروں اموات
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس تحریک نے غزہ کی سرحدی بار عبور کرتے ہوئے جنوبی اسرائیل میں فوجی اڈوں اور یہودی بستیوں پر حملہ کیا تھا۔ حماس کے حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک اور تقریباً 240 افراد کو اغوا کر کے غزہ کی پٹی میں منتقل کردیا گیا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جارحیت کا سلسلہ شروع کیا۔ شدید فضائی حملوں اور 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی اب تک تقریباً 19,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ حملے میں 52,000 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading