اسرائیلی فوج نے فوجی اور اس کے بھائی کے مبیّنہ قاتل فلسطینی کا گھر مسمار کر دیا

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فوجی اور اس کے بھائی کو قتل کرنے کے الزام میں ایک فلسطینی کا گھر مسمار کر دیا ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے عسکر کیمپ میں عبدالفتاح خروشاہ کی قیام گاہ کو منہدم کرنے کے لیے رات بھر کارروائی کی ہے اور اس دراندازی کے دوران میں فلسطینیوں کی فوجیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔فوج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب دھماکا خیز مواد پھینکا گیا اور فورسز پر براہ راست فائرنگ کی گئی اور فوجیوں نے فلسطینیوں کی مزاحمت کے جواب میں کارروائی کی ہے۔عینی شاہدین نے اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ان میں سے کچھ مسلح تھے۔

فلسطینی انجمن ہلال احمر کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں چھے فلسطینی زخمی ہوئے۔ان میں سے ایک براہِ راست گولہ بارود سے زخمی ہوا ہے۔اس طبی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے براہ راست اس کی ایک ایمبولینس کو ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس سے نشانہ بنایا۔

صہیونی فوج نے خروشاہ پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے فروری میں دو اسرائیلی آباد کاروں حلیل میناخیم یانیف اور اس کے بھائی یاگل یاکوف یانیف کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ مغربی کنارے میں واقع قصبے حوارا سے گذر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے مارچ میں ایک چھاپا مار کارروائی میں 49 سالہ خروشاہ کو ہلاک کر دیا تھا۔اب اسرائیلی فوجیوں نے ان کے مکان کو دھماکے سے اڑایا ہے جس کے نتیجے میں گنجان آباد علاقے میں دھواں پھیل گیا اور پڑوسیوں نے بھی اپنے اپنے نقصانات کا جائزہ لیا۔اسرائیل باقاعدگی سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے گھروں کو مسمار کرتا رہتا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس سے بچوں سمیت غیر جنگجو بے گھر ہو جاتے ہیں۔

غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے کہا ہے کہ ماضی میں اس طرح کے اقدامات ‘ناکام’ ثابت ہوئے ہیں۔اس سے ہمارے لوگ سرنگوں نہیں ہوں گے بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں مزاحمت جاری رکھیں گے۔

گذشتہ سال کے اوائل سے شمال مغربی کنارے میں مہلک تشدد کا سلسلہ جاری ہے جو فلسطینی مسلح گروہوں کا گڑھ ہے اور جہاں اسرائیلی فوج اکثر گنجان آباد علاقوں میں چھاپا مار کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔اس علاقے میں اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں پر حملوں کے علاوہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی آبادیوں پر حملوں کا سلسلہ بھی دیکھا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اسرائیلی فلسطینی تنازع سے منسلک تشدد کے واقعات میں 212 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جبکہ 28 اسرائیلی، ایک یوکرینی اور ایک اطالوی ہلاک ہوا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading