یوں تو اپنے آپ کو مہذب سمجھنے والی دنیا نے ریاستی خود مختاری، سفارتی تعلقات اور انسانی حقوق، رنگ و نسل،علاقائی و جغرافیائی امتیازات و تفاوت کو مٹانے اور امن و امان کے لیے قوانین وضع کیے ہوئے ہیں ،ساتھ ہی کیمیشنس، انجمنیں، تنظیمیں، اور ادارے قائم کر رکھے ہیں جو بھاری بھرکم بجٹ اور پیکیج کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں، بظاہر ظلم و زیادتی اور نا انصافی کے خلاف یہ آواز بھی اٹھاتے رہتے ہیں لیکن یہ سب طاقتور ریاستوں کے ہرکارے اور ایجنٹ ہیں جو صرف انہیں کے حقوق اور تحفظات کے نگران ہیں باقی دنیا میں کیا قیامتیں ٹوٹتی ہیں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں، یہ اسی وقت مستعدی دکھاتے یا حرکت میں آتے ہیں جب اپنے آقاؤں کی خود مختاری کو کسی نے چیلینج کیا ہو یا ان طاقتور ریاستوں کی عوام پر چھوٹی سی ایک مصیبت بھی آجائے ،دوسری طرف اس گلوبل ویلیج میں کمیونیکیشن، اور مواصلات کی برق رفتاری کے باوجود امت مسلمہ یا مسلم ملک کے مسائل کی گونج کوئی سن نہیں پاتا،تو اسے مہذب دنیا کا ڈبل اسٹینڈرڈ ہی کہیے کہ وہ امن کا راگ اسی وقت الاپتی ہے جب مظلوم یا ستم رسیدہ،امت مسلمہ کے الی الرغم کوئی اور قوم ہو۔
ایک دہشت گرد اسرائیل مسلسل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ان کے حقوق کو پامال کررہا ہے،انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کررہا ہے،بچوں، بزرگوں اور خواتین سبھی کو اپنی دہشت کا ڈنک ماررہا ہے،لیکن مجال ہے کسی کے خواب غفلت میں خلل کی ایک ہلکی سی جنبش بھی آجائے،امن کے دیوتا پتھر کی اس مورتی کی مانند بے حس ہوچکے ہیں، جو اپنے آگے فریاد کرنے والوں کی آہ بکاہ سے بے علم ہوتا ہے اب اس میں وہ بد نصیب عقیدت مند امت مسلمہ ہی ہے جو امن کی دہائی ان ظالموں کو دیتی رہتی ہے یا انہیں طاقتوں سے اپنے مسائل کے حل کے لیے فریاد رسی کرتی رہتی ہے،لیکن فلسطینیوں کی جہد مسلسل اور ظالم و قابض ریاست کے خلاف مزاحمت نے ہی انہیں باقی رکھا ہوا ہے،اگر بات کی جائے اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں اور دہشت گرد سرگرمیوں کی تو المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس ایک ادارہ ہے جو فلسطینیوں پر ظلم و زیادتی کی اعداد شمار دنیا کے سنے لاتے رہتا ہے اس نے نئے اعداد و شمار جمع کیے ہیں ۔
وہ کہتا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے بستیوں کو اجاڑنے کی اجتماعی کاروائی شروع کررکھی ہے،جسے وہ "ہول سیل ہدف کہتا ہے،،
المیزان سینٹر کی رپورٹ کے مطابق 113 افراد (جن میں سے 110 عام شہری تھے) ان کے گھروں کے اندر اسرائیلی فورسز کی وارننگ کے ساتھ، زیادہ تر رات کے وقت، ایک اندازے کے مطابق 134 میزائلوں کے ذریعے مارے گئے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 46 بچے گھروں کے اندر مارے گئے۔
گزشتہ 11 دنوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والی کل 38 خواتین میں سے 37 کو ان کے گھروں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے قتل کیا گیا۔اور یہ پوری کارروائی
بغیر انتباہ کے عموماً رات کو کی گئی۔گزشتہ ایک سال کے دوران
1,313 گھروں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور تباہ کیا گیا، مزید 6,367 کو نقصان پہنچا۔
اسرائیل کی جانب سے چار بلند و بالا عمارتوں کو برابر کرنے سے گزشتہ سال کے 11 دن کے اضافے میں 232 مکانات تباہ ہوئے، جبکہ 2014 کے موسم گرما میں اسرائیل کے سات ہفتے تک جاری رہنے والے حملے میں 182 مکانات تباہ ہوئے۔
#غزہ میں 1,968 افراد زخمی ہوئے جن میں 630 بچے (جن میں سے 41% اپنے گھروں میں نشانہ بنائے گئے) اور 397 خواتین (51% اپنے گھروں میں) شامل ہیں۔
گزشتہ چار جنگوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 3,005 فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں۔
المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس کی فیلڈ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ کارروائیوں میں واضح اور منظم خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جو کے اقوام متحدہ کے قانون کے تحت واضح طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔
یہ پوری وحشیانہ اور سفاکانہ کاروائیاں ہمارے گلوبل ویلیج میں کی گئی جس کی صدا باہر نا آسکی اور امن و انصاف کے نام نہاد علم برداروں کے ناک کے نیچے کی گئی ساتھ ہی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک کسی بھی مجرم کا احتساب نہیں کیا گیا ہے،اس کے بر خلاف بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں،