اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے: یو این کی تشویش

اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ایک بار پھر شروع ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ان بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، صرف اکتوبر کے مہینے میں اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 264 حملے کیے، جو 2006 ءسے ان واقعات کے ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ تشدد کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے جن میں جانی نقصان، زخمی ہونے اور املاک کی تباہی کے واقعات شامل ہیں، روزانہ اوسطاً آٹھ مرتبہ پیش آ رہے ہیں۔

دفتر نے مزید بتایا کہ 2006ء سے اب تک ایسے 9600 سے زائد حملوں کی دستاویزات موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 1500 حملے صرف رواں سال کے دوران ہوئے۔

42 فلسطینی بچوں کی شہادت
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے گزشتہ بدھ تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 42 فلسطینی بچے شہید ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025ء میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے ہر پانچ میں سے ایک فلسطینی بچہ تھا۔

مغربی کنارہ، جہاں تقریباً 27 لاکھ فلسطینی اور پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، مستقبل کی ممکنہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کا مرکزی محور سمجھا جاتا ہے۔تاہم اسرائیلی حکومتوں نے اس علاقے میں تیزی سے نئی آبادکاریاں بڑھائی ہیں، جس کے باعث زمین تقسیم ہو کر بکھر گئی ہے۔اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری ان آبادکاریوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب غزہ میں امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 10 اکتوبر سے نافذ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading