پارتھ پوار نے زمین خریدنے کے لیے رقم کہاں سے لائی؟ ایف آئی آر میں نام کیوں نہیں؟ جانچ کمیٹی محض دھول جھونکنے کی کوشش
’وندے ماترم‘ پر بی جے پی کا پیار ’پتنا ماسی‘ جیسا ڈھونگ، ’وندے ماترم‘ مذہبی یا نسلی فسادات بھڑکانے کے لیے نہیں ہے
ممبئی: بی جے پی۔یوتی حکومت کی کھال گینڈے جیسی موٹی ہو چکی ہے اور اس حکومت کے طریقۂ کار کو دیکھ کر صاف کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر ذرا بھی شرم و حیا باقی نہیں رہی۔ ہر روز نئے نئے گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں لیکن کارروائی کے نام پر صفر ہے۔ حکمراں پاریٹوں کے قائدین اور ان کے عزیز رشتہ دار پورے صوبے کو نوچنے میں مصروف ہیں۔ ممبئی، پونے سمیت ریاست بھر میں کروڑوں روپے مالیت کی زمینیں کوڑیوں کے عوض ہڑپی جا رہی ہیں۔ انہی تمام زمینوں کے سودوں کی مکمل وائٹ پیپر جاری کرنے اور آئندہ سرمائی اجلاس میں اس پر پورا ایک دن مباحثہ کرانے کا مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی۔یوتی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے فرزند پارتھ پوار نے پونے کی 40 ایکڑ زمین محض 300 کروڑ روپے میں خرید لی، اور اس کے لیے صرف 500 روپے کا اسٹامپ ڈیوٹی جمع کیا گیا۔ اس زمین پر آئی ٹی پارک کا منصوبہ بھی فوراً منظور کر لیا گیا اور دستاویزات میں بڑے پیمانے پر ردّ و بدل کیا گیا۔ جب یہ بدعنوانی بے نقاب ہوئی تو اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ زمین خریداری منسوخ کر دی گئی۔ یعنی سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا کہ یہ سودا غلط تھا۔ تو پھر کارروائی کیوں نہیں؟ ایف آئی آر میں پارتھ پوار کا نام کیوں ندارد ہے؟
سپکال نے کہا کہ پارتھ پوار کی ’امیڈیا‘ کمپنی نے اس سے پہلے پونے کے بوپوڑی علاقے میں ایگریکلچر ڈیری کی سرکاری زمین جعلی کاغذات پر ہتھیا لی تھی۔ آخر اتنے بڑے سودوں کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ اگر یہ رقم کسی شوگر فیکٹری سے آئی ہے تو وہ رقم کس نے اور کیسے فراہم کی؟ عوام کو ان سوالات کے جواب ملنے چاہئیں۔ حکومت نے محض وقت گزاری کے لیے جانچ کمیٹی قائم کی ہے۔ بی جے پی کے مرکزی وزیر مرلی دھر موہول نے پونے میں جین بورڈنگ کی زمین ہڑپ لی تھی۔ جب یہ معاملہ منظرِعام پر آیا تو سودا منسوخ کر دیا گیا۔ مگر معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کیس میں چیریٹی کمشنر وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کے رشتہ دار ہیں۔ ان پر کیا کارروائی ہوئی؟ ممبئی میں اڈانی گروپ کو سیکڑوں ایکڑ زمین مفت میں دے دی گئی۔ بی جے پی کے ممبئی دفتر کے لیے سرکاری زمین کا سودا بھی مشتبہ ہے۔ فڑنویس نے اپنے نئے ساتھی موہت کمبوج کو ایس آر اے کی زمینیں دیں۔ پونے میں رنگ روڈ کے حصولِ اراضی میں بڑا گھوٹالا ہوا۔ سمردھی مہامارگ میں کس کی ’سمردھی‘ ہوئی، یہ بھی حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہئے۔ اس ریاست کے تمام زمین سودوں پر تفصیلی وائٹ پیپر فوراً جاری کیا جانا چاہئے۔
’وندے ماترم‘ فساد پھیلانے کا آلہ نہیں
آزادی کے ترانے ’وندے ماترم‘ کی ڈیڑھ سو سالہ تقریب کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی ملک بھر میں پروگرام کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہمیشہ ’وندے ماترم‘ کی مخالفت کی۔ آر ایس ایس کی شاخوں میں آج تک یہ ترانہ نہیں گایا گیا۔ ’وندے ماترم‘ تحریکِ آزادی کا ترانہ تھا، قربانی اور ایثار کی تاریخ رکھتا ہے۔ اب بی جے پی نے برسوں بعد اسے قبول کیا، یہ خوش آئند ہے، مگر اب بی جے پی اس ترانے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ ترانہ مذہبی یا نسلی فسادات بھڑکانے اور سماجی ہم آہنگی برباد کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ’وندے ماترم‘ پر بی جے پی کا یہ نیا پیار اصل میں ’پتنا ماسی‘ یعنی منھ میں رام بغل میں چھری جیسا ہے۔
MPCC Urdu News 8 November 25.docx