آر ٹی ای ایکٹ 2009ء کی روشنی میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور حکومتی چالاکیوں کا تجزیہ
از: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313
سپریم کورٹ نے یکم ستمبر 2025ء کو اپنے ایک اہم فیصلے میں ملک بھر کے اساتذہ کے لیے ’’ٹیچرس ایلیجیبلٹی ٹیسٹ‘‘ (TET) لازمی قرار دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر کوئی معلم یا معلمہ پروموشن چاہتا ہے تو اسے یہ امتحان دینا اور کامیاب کرنا ہوگا۔ جن اساتذہ کی ریٹائرمنٹ میں پانچ سال سے کم مدت باقی ہے انہیں نوکری برقرار رکھنے کی حد تک چھوٹ دی گئی ہے، مگر پروموشن کا دروازہ ان پر بھی بند رہے گا جب تک کہ وہ TET پاس نہ کریں۔
بظاہر یہ فیصلہ عدالت کا ہے لیکن حقیقت میں سپریم کورٹ کو ایسا سخت قدم حکومت کے پیش کردہ ترمیمی قانون کی بنیاد پر اٹھانا پڑا۔ اس لئے کہ سپریم کورٹ تو صرف قانون نافذ کرنے والی ایک ایجنسی ہے، قانون بنانا یا ختم کرنا حکومت کا کام ہے۔ بہر حال اس پورے معاملے میں اختصار کے ساتھ نظر ڈالتے ہیں کہ اس کی حقیقت ہے کیا؟
۞ سن عیسوئی 2009ء میں ’’رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ‘‘ نافذ کیا گیا اور اس میں شرط رکھی گئی کہ اساتذہ کے لیے کم از کم اہلیت طے کی جائے گی جو ڈی ایڈ بی ایڈ کے علاوہ ہو، کیونکہ ملک بھر کے ڈی ایڈ، بی ایڈ کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کے تعلیمی معیار یکساں نہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر اکثر ایسے کالجز ہیں جہاں کا تعلیمی معیار بہت خراب ہے۔
۞ 23/اگست 2010ء کو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ اب سروس پانے کے لیے اساتذہ و معلمات کیلئے ڈی ایڈ، بی ایڈ کے علاوہ TET امتحان بھی کامیاب کرنا لازمی ہوگا اور اس کی ذمہ داری NCTE (نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن) کو دے دی گئی۔
۞ 29/جولائی 2011ء کو NCTE نے ریاستوں کو خط لکھا کہ اب سے تمام نئی بھرتیاں TET کی بنیاد پر ہوں گی اور موجودہ بر سرِ کار اساتذہ کو بھی پانچ برس میں TET پاس کرنا ہوگا۔
۞ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ 3/ستمبر 2001ء سے پہلے اپائنٹ ہونے والے اساتذہ کو ٹی ای ٹی امتحان دینے سے چھوٹ ہوگی، اور 2001ء تا 2010ء کے درمیان اپائنٹ ہونے والے اساتذہ کو بھی یہ سہولت ملے گی۔
یہاں تک تو سب کچھ واضح اور منصفانہ دکھائی دیتا ہے لیکن اصل کہانی شروع ہوتی ہے 2017ء کی ترمیم سے اور سپریم کورٹ کے یکم ستمبر 2025ء کے حالیہ فیصلے کا اصل موڑ یہی ہے۔ ہوا یوں کہ 2017ء میں مرکزی حکومت نے آر ٹی ای ایکٹ 2009ء کی دفعہ 23(2) میں بڑی چالاکی سے ترمیم و تبدیلی کی۔
۞ جس کی بنیاد پر کہا گیا کہ 31/مارچ 2015ء سے ان سروس اساتذہ کو چار برس کے اندر اندر TET پاس کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت کی چالاکی دیکھئے کہ اس ترمیم کو بیک ڈیٹ سے نافذ کیا گیا، یعنی 2017ء میں پاس ہو کر بھی یہ 2015ء سے لاگو مانا گیا۔ یوں اساتذہ کو کاغذ پر تو چار سال ملے لیکن حقیقت میں صرف دو سال (2017 تا 2019) ہی دستیاب ہوئے۔
۞ اس کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستوں کو نوٹیفکیشن تو بھیجا مگر نہ تو ریاستی حکومتیں متحرک ہوئیں اور نہ اساتذہ کو حقیقت کا علم ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قانون کتابوں میں پڑا رہ گیا اور عمل درآمد صفر رہا۔
🏛️سپریم کورٹ کیوں مجبور ہونا پڑا؟
جب معاملہ پروموشن کے سلسلے میں عدالت پہنچا تو حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے یہی 2017ء والا ترمیمی قانون رکھ دیا۔ جس پر سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 142 کا سہارا لیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ:
۞ 23/اگست 2010ء کے بعد اپائنٹ تمام اساتذہ کو TET پاس کرنا ہوگا۔
۞ 3/ستمبر 2001ء تا 23/اگست 2010ء کے درمیان والے آن ڈیوٹی اساتذہ کو بھی امتحان دینا ہوگا۔
۞ صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوں گے جن کی سروس پانچ سال سے کم باقی ہے لیکن انہیں بھی پروموشن نہیں مل سکے گا جب تک کہ وہ TET پاس نہ کریں۔
سپریم کورٹ نے 2017ء کے ترمیمی قانون کے محض متن کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔ دراصل عدالت کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا ہی نہیں کیونکہ قانون بنانے یا بدلنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
*سپریم کورٹ کے فیصلے پر اٹھتے سوالات جو اب بھی قائم ہیں*
1) جب ایک معلم یا معلمہ نے باقاعدہ D.El.Ed B.Ed یا M.Ed جیسے کورس مکمل کیے تو پھر اسے نوکری پانے کے لیے TET کی زبردستی کیوں؟
2) اگر مسئلہ یہ ہے کہ آج کے ڈی ایڈ، بی ایڈ چلانے والے کچھ اداروں کا تعلیمی معیار کمزور ہے تو اس کی سزا پہلے سے برسرِ ملازمت سینئر اساتذہ کو کیوں؟
3) اگر TET ہی سب کچھ ہے تو پھر ڈی ایڈ، بی ایڈ جیسے ڈگری کورسز بند کر دیے جائیں اور صرف گریجویٹ افراد سے TET امتحان لے کر اساتذہ بھرتی کیوں نہ کی جائے؟
4) صرف اساتذہ پر ہی اس طرح کی تلوار کیوں لٹکائی جارہی ہے؟ کیا دیگر سرکاری محکموں کے کلرک، آفیسرس یا ملازمین سے بھی سروس کے بیس پچیس برس بعد اسی طرح کے امتحان کی توقع کی جا سکتی ہے؟
حقیقت یہی ہے کہ ڈی ایڈ، بی ایڈ چلانے والے اداروں کے کمزور معیار کے بہانے حکومتی چالاکیوں کا خمیازہ ان سروس اساتذہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 2017ء کی ترمیم کو بیک ڈیٹ سے نافذ کرکے اساتذہ کو لاعلمی میں دھکیل دیا گیا اور آج عدالت کے فیصلے کی شکل میں ان پر ٹی ای ٹی پاس کرنے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے جو کہ غلط ہے۔ یہ وقت ایسا ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو اساتذہ کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں کی جڑوں میں اصلاح کرنی چاہئے تھی، اگر ایسا ہی رہا تو معیار تعلیم بہتر ہونے کے بجائے مزید انتشار اور بے اعتمادی کو ہوا دے گا۔ یہ تحریر اساتذہ کی آواز ہے جنہیں ملک و قوم کا معمار کہا جاتا ہے لیکن آج وہی معمار اپنے ہی گھر میں غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے دبے بیٹھے ہیں۔