اروناچل میں چین کا قبضہ: بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ہی مودی حکومت کی قلعی کھول دی!

پاکستان سے جڑے ایشوز پر سیاست کرنے اور چین کی داداگری پر خاموشی اختیار کرنے والی مرکز کی مودی حکومت کو اسی کے رکن پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں گھیر لیا۔ لوک سبھا میں مشرقی اروناچل سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ نے چین کے وسعت پسندانہ رویہ کو سامنے لاتے ہوئے اپنی ہی حکومت کی ایوان میں قلعی کھول دی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اروناچل پردیش میں لگاتار چین دراندازی کر رہا ہے۔ انھوں نے ایوان میں دعویٰ کیا کہ چین نے ہندوستان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ انتہائی سنگین ایشو ہے، لیکن حکومت اس طرف دھیان نہیں دے رہی ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر اس ایشو کو نہیں اٹھاؤں گا تو ہندوستان کی آنے والی نسل مجھے معاف نہیں کرے گی۔ 14 نومبر 2019 کو ملک کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ توانگ گئے۔ بی آر او کے ایک پل کا افتتاح کرنے وہ گئے تھے۔ اس پر چین نے آفیشیل پریس کانفرنس کر کے راج ناتھ سنگھ کے ذریعہ کیے گئے پل افتتاح پر اعتراض ظاہر کیا۔ صدر جمہوریہ اور پی ایم مودی اروناچل گئے، اس پر بھی چین نے اعتراض ظاہر کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ اروناچل گئے، اس پر بھی چین نے بیان جاری کر ناراضگی ظاہر کی تھی۔‘‘

بی جے پی رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ نے کہا کہ ’’آج 50 سے 60 کلو میٹر سے زیادہ چین نے ہمارے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے میں حکومت، ایوان اور میڈیا ہاؤس سے یہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ اس ایشو کو اٹھائیں۔ اگر کوئی پاکستان کا ایشو آتا ہے تو وہ اٹھتا ہے، میڈیا مین خبریں آتی ہیں، لیکن چین اگر اروناچل پردیش میں قبضہ کرتا ہے تو وہ خبر کہیں نہیں آتی ہے۔‘‘

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر وقت رہتے اروناچل پردیش پر مودی حکومت نے دھیان نہیں دیا تو وہ دن دور نہیں جب اروناچل میں دوسرا ڈوکلام بن جائے گا، تب حکومت کے لیے بے حد مشکل ہوگا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading