نئی دہلی،19جولائی (یو این آئی) اردو کے معروف ادیب اور افسانہ نگارقیوم میو کاگزشتہ شب دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ وہ 53 سال کے تھے۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے، ایک بیٹی اور اہلیہ ہیں۔ان کے پر سرکردہ لوگوں کے علاوہ معروف نقاد حقانی القاسمی نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ان کی تدفین آج یہاں شاہین باغ کے قبرستان میں سیکڑوں لوگوں، ادیبوں، شاعروں اور سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں عمل میں آئی۔ مسٹر قیوم میو کی پیدائش ناگپاڑہ ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کا آبائی وطن آگرہ تھا۔ وہ برسوں تک ممبئی میں مقیم رہے۔ اس کے بعد دہلی آگئے اور یہاں جسولہ گاؤں میں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کرلی۔وہ بہت ہی متحرک اور فعال شخص تھے۔ دہلی کی بیشتر ادبی تقریبات میں وہ شریک رہتے تھے۔ 1980 سے ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہوا۔ اردو کے بیشتر رسائل و جرائدمیں ان کی تخلیقات شائع ہوتی تھیں۔’پتھر جیسے لوگ‘، ’بہار و خزاں‘، ’رشتوں کا کرب‘، ’ماڈرن اولادیں‘، ’ننھی گڑیا‘ اور ’بازی گر‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔انھیں مختلف اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے تھے۔ قیوم میو اردو کے سچے عاشق اور بے لوث خادم تھے۔ انتقال سے چند گھنٹے قبل وہ فاروق سید کے ماہنامہ ’گل بوٹے‘ ممبئی کے زیراہتمام غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی کی ایک تقریب بعنوان ’بچوں کا ادب: سمت و رفتار‘ میں شریک ہوئے تھے۔ وہاں سے واپسی کے کچھ گھنٹوں بعد وہ کسی دوست سے ٹیلی فون پر بات کررہے تھے کہ اسی دوران ان کو دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔معروف ادیب و نقاد حقانی القاسمی نے مسٹر قیوم میو کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کی تخلیقات عوامی، معاشرتی اور انسانی مسائل سے عبارت تھیں۔ جہاں وہ بہترین افسانہ نگار وہیں وہ بہتر انسان بھی تھے۔ ان کی بے وقت موت کی وجہ سے ان کا ذاتی نقصان ہوا ہے۔ درحقیقت وہ اردو کے سچے شیدائی اور عاشق تھے۔
مسٹر حقانی کے علاوہ ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرنے والوں میں فاروق سید، رونق جمال، سراج عظیم، ڈاکٹر عبدالحی، شاہد اخترانصاری، محفوظ عالم وغیرہ شامل ہیں۔