احمد نگر: مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر میں واقع مشہور مذہبی مقام شری شنی شنگناپور دیوستھان ٹرسٹ نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ہندووں کے عقیدت کے مرکز اس مندر میں مسلم ملازمین کی جانب سے شنی دیو کی چوکھٹ پر مرمت کا کام کیے جانے کے بعد ایک بڑا تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ ہندوتوا تنظیموں نے اس واقعے کی مخالفت کرتے ہوئے مندر میں کام کر رہے مسلم ملازمین کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور 14 جون کو احتجاجی مارچ کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم، اس سے پہلے ہی دیوستھان انتظامیہ نے 114 مسلم ملازمین سمیت کل 167 افراد کو "نظم و ضبط کی خلاف ورزی” کے الزام میں نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔
چند دن قبل، شنی شنگناپور مندر میں شنی دیو کی چوکھٹ پر کچھ مسلم ملازمین کی جانب سے رنگ و روغن اور مرمت کا کام کیا جا رہا تھا، جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔ ہندو تنظیموں نے اس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو مندر میں مسلم ملازمین کیسے کام کر سکتے ہیں؟ مہاراشٹر مندر مہاسنگھ نے اس پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان ملازمین کو فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی مطالبے کی حمایت میں کل 14 جون کو "سکل ہندو سماج” کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔
لیکن اس احتجاج سے ایک دن پہلے ہی مندر انتظامیہ نے قدم اٹھاتے ہوئے مذکورہ ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ برطرف کیے گئے 114 مسلم ملازمین میں سے 99 پچھلے پانچ مہینوں سے کام پر حاضر ہی نہیں ہو رہے تھے۔
دیوستھان ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر بد نظمی، غیر حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے باعث کیا گیا ہے، مذہبی بنیادوں پر نہیں۔ تاہم اس اقدام پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف رائے سامنے آ رہی ہے۔