ممبئی ،9جون ( ایجنسیز)احمدنگر کا گوہا گاؤں بھائی چارے کی مثال کے بجائےاب نفرت کا شکار بن گیاہے ،اس گاؤں میں کٹر ہندوتووادیوں نے ،مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔حال میں کئی اہم شخصیات نے ‘ہم بھارت کے لوگ’ کے عہدیداران نے گاؤں کا دورہ کیا۔دراصل یہاں ایک بار پھر ایک تنازعہ پیدا ہواہے، جو ایک پرانی درگاہ اور ایک مندر کے جوابی دعووں کے درمیان پیدا ہوا ہے۔
ہم بھارت کے لوگ کے ایک وفد نے حال ہی میں گوہا کا دورہ کیا اور اپنے نتائج پیش کرے گا۔ زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے مسلم اقلیت کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ کا اعلان اور نفاذ کیا گیا ہے۔ احمد نگر کے قریب واقع گوہا گاؤں کا دورہ کیا اور اس بارے میں بھی ایک رپورٹ تیار کی ہے ،جومنتخب اجتماع کے سامنے رپورٹ رکھی جائے گی۔
ان کی کوشش ہے کہ ایک خوشگوار حل کی طرف کام کیا جائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ایک بار پھر بحال کیا جائے اور اس طرح اس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ آپ کو مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ سیاست کے تشویشناک عروج پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک مشاورتی میٹنگ مولانا معین میاں ہی صدارت میں ہوگی اورمہمان خصوصی تشار گاندھی ہوں گے، مقررین میدھا کلکرنی، فیروز مٹھی بور والا، علاؤالدین شیخ، مولانا سعید نوری، عرفان انجینئر اور نریندر ڈمبرے ہوں گے۔
مذکورہ میٹنگ اسلام جمخانہ، کانفرنس روم، نیو میرین لائن ریلوے اسٹیشن کے قریب، ممبئی۔بروز بدھ، 11 جون 2025شام 7.00 بجے ہوگی۔اس کے آرگنائزنگ کمیٹی میں ایم اے خالد، گڈی ایس ایل، علی بھوجانی، فاروق میپکر اور یشودھن پرانجپے شامل ہیں۔