اجتماع نوجوانوں کی اصلاح اور زندگی بدلنے کا ذریعہ ہے: حضرت معین میاں

اجتماع نوجوانوں کی اصلاح اور زندگی بدلنے کا ذریعہ ہے: حضرت معین میاں

علماء کے حقوق پر توجہ دینے اور سنی اجتماع کو کامیاب بنانے پر زور

تھانے (آفتاب شیخ) عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی کا سنتوں بھرا اجتماع ممبرا میں 12 جنوری 2025 کو منعقد ہونے جارہا ہے اس کو کامیاب بنانے کے حوالے سے تھانے شہر کے تمام علماء اکرام، اداروں اور کمیٹیوں کے ذمہ داران کی رابوڑی کے احمد شاہ بابا ہال میں ایک خصوصی نششت کا انعقاد سنی مسجد غوثیہ رابوڑی تھانہ کی جانب سےکیا گیا، جس کی سرپرستی حضور معین ملت شہزادہ شہید راہ مدینہ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی المعروف معین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم نے فرمائی۔
اپنے خطاب میں معین میاں نے واضح کیا کہ جمعہ کے بیانات میں اکثر علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرتے ہیں لیکن کچھ حضرات ہے جو اس کے برعکس کرتے ہوئے غیر مستند واقعات بیان کرتے ہیں ان کو غیر مستند باتوں اور واقعات سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں عوام کے دلوں پر اثر قرآن اور سنت رسول ﷺ کا دینا چاہیے، نہ کہ غیر مستند واقعات کا۔ منبر کا صحیح استعمال نہ ہونے کے باعث معاشرے میں اخلاقی گراوٹ اور تباہی عام ہو چکی ہے۔ علماء اور ائمہ کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبات میں بنیادی فقہی مسائل جیسے وضو اور نماز کی تعلیم دیں، تاکہ امت کی اصلاح ممکن ہو۔”
انہوں نے نوجوانوں میں اخلاقی گراوٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مسلم محلوں میں نوجوانوں کی حالت دیکھ کر ندامت ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعات اور دینی پروگراموں کے ذریعے ان کی اصلاح کی جائے۔ تحریک سنی دعوت اسلامی ہمیشہ علماء اور اکابرین کے زیر سایہ رہی ہے اور مسلک حق کی صحیح ترجمانی کرتی آئی ہے۔”
معین میاں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "سنی اجتماع میں شرکت کریں، اس سے آپ کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی، آپ قرآن و سنت سے وابستہ ہوں گے، اور خرافات سے بچ سکیں گے۔ اجتماع میں علماء و اکابرین کی زیارت اور ان کے بیانات سننے کے بعد دلوں پر جو زنگ ہے وہ دھل جائے گا۔”
انہوں نے خرافات اور غیر شرعی کاموں پر خرچ کرنے کے بجائے حلال پیسے کو سنی اجتماع کی کامیابی کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ "اپنے محلوں، گلیوں اور علاقوں میں اس اجتماع کی دعوت پہنچائیں۔ اللہ رب العزت آپ کو اس کا صلہ اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔”
معین میاں نے علماء، ائمہ کرام اور حاضرین کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ "ہر گلی اور محلے میں مخارج کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیم اور بنیادی دینیات کی کلاسز کا اہتمام کیا جائے۔ سلطان الہند خواجہ غریب نواز اور دیگر بزگان دین کے نام سے مکاتب قائم کیے جائیں، اور لنگر و نیاز کے ساتھ ساتھ ان بزرگوں کے نام پر ایک تنخواہ دینے کا انتظام بھی کیا جائے۔ علماء کا خاص خیال رکھا جائے، ان کے بچوں کی تعلیم اور ان کی ضروریات کا بندوبست کیا جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ سنی اجتماع میں جانے سے نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلاب آتا ہے۔ ان کے چہروں پر اللہ کا نور آتا ہے، اور وہ نماز و قرآن سے جڑ جاتے ہیں۔ آپ تمام نوجوانوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں، کیونکہ اگر ہم نے ان کی اصلاح نہ کی تو مستقبل کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔”
اس نششت میں نائب قاضی شہر تھانہ مفتی عظیم الدین نوری، مولانا سلیم نوری اور دیگر معزز علماء و شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اجتماع کی کامیابی کے لیے اہم مشورے دیے۔ نششت کے روح رواں مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے ڈائریکٹر الحاج ڈاکٹر محمد اصغر مقادم نے نطامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر دارلعلوم محبوب یزدانی کے ناظم اعلی مولانا سید تفضیل اشرف، حافظ عرفان انصاری، حافظ عمران اشرفی، مولانا انصار احمد رضوی، مولانا جمیل قادری، قاری محمد ذولفقار اشرفی، اکرم خان گھاٹکوپر، مسجد اشرفیہ سنی سرکل کے خان صفدر اشرفی، مسجد غوثیہ کے صدر نثار سیفی، مومن پورہ جمعہ مسجد ٹرسٹ کے قیس راوی، انجمن خاندیش کے صدر سید عباس علی، احمد شاہ بابا درگاہ کے شکیل فقیہہ و بڑی تعداد میں ذمہ داران موجود تھے۔ حاضرین نے سنی دعوت اسلامی کے اجتماع کو کامیاب بنانے کا عزم کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading