اترپردیش : مسلمان بولے ‘ اگر مودی حکومت دوبارہ بنتی ہے تو انہیں چھوڑنا پڑے گا یہ گاؤں’

اتر پردیش کے گاؤں نیاباس کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اب اس گاؤں میں ہندو- مسلم آپس میں بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بار بھی مودی حکومت بنتی ہے تو انہیں لگتا ہے کہ گاؤں چھوڑنا پڑے گا ۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بلند شہر کے اس گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پہلے ایسا نہیں تھا اور مسلمانوں کے بچے بھی ہندو بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔مسلم ہندو اچھے اور برے وقت میں ساتھ رہا کرتے تھے۔لیکن مودی اور یوگی نے سب گڑبڑ کر دیا ہے۔حالانکہ بی جے پی ہندو مسلم کو بانٹنے کی پالیسیوں سے انکار کرتی رہی ہے ۔

گزشتہ سال کے آخر میں بلند شہر کے اسی علاقے میں ہندوؤں نے شکایت کی تھی کہ انہوں نے کچھ مسلمانوں کو گائے کاٹتے دیکھا ہے۔اس کے بعد غصائی بھیڑ نے ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا تھا۔جس کے بعد ہندو- مسلم کمیونٹی میں نفرت بڑھ گئی تھی۔

تقریباً 4000 سے زیادہ کی آبادی والے نیاباس گاؤں میں قریب 400 مسلم رہتے ہیں۔نیوز ایجنسی سے بات چیت میں بہت مسلمانوں نے کہا کہ اب بہت سے مسلم دہشت میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 سالوں میں دونوں کمیونٹی کے درمیان پولرائزیشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ بہت سے یہاں سے نکلنے کی سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی دوسری بار جیتتی ہے اور نریندر مودی کی حکومت آتی ہے تو انہیں لگتا ہے کہ کشیدگی اور بڑھے گی ۔

#UrduNewsUttarPardesh #Bulandshaher #MuslimsPlan #LeaveVillage #ModiGovernment #YogiGovernment

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading