آہ ہم سے ہمارا مرشد جدا ہوگیا

الحمد للہ نماز فجر سے فارغ ہوکر حسب معمول صبح کی سیر (واک) کے لئے نکل گیا کچھ بعد واپس گھر آیا اور اپنی سانسیں درست کر ہی رہا تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی جو مفتی محمود بھروچی حال مقیم باندرہ کا کال تھا کال رسیو کیا تو انہوں نے بے حد افسوسناک اور روح فرساخبر سنائی ان کی دکھ بھری آواز میری سماعت سے ٹکرائی ، وہ کہہ رہے تھے ہمارے مخدوم مربی حضرت مولانا الشاہ منیر احمد صاحب کا لینا ممبئی انتقال کر گئے اس خبر نے مجھے اس قدر جھنجھوڑ کر رکھ دیاکہ اندر سے ٹوٹنے بکھرنے کا احساس ہوا اور سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ سرپرست اعلیٰ ہم سے ہمیشہ کے لئے دور بہت دور چلے گئے ایک ایسی دنیا میں جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا .

میں نے واٹس اپ پر ” فیض منیر” گروپ اس امید کہ ساتھ کھولا کہ کوئی کہہ دے کہ ان کی موت کی خبر جھوٹی ہے اور وہ حیات ہیں ۔۔۔۔۔۔😓 مگر شومئیِ قسمت کہ وہاں سے بھی مایوسی ہوئی ۔ آپ کے فرزند حضرت مفتی عبد الرشید صاحب کے ذریعہ خبر موصول ہوئی کہ والد گرامی سنت وشریعت بھری زندگی گذار کر 7 رمضان کو قبل الفجر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے انا للہ وانا الیہ راجعون

قارئین کرام ہمیں اسکا یقیناً اچھی طرح احساس ہیکہ جو بھی اس کائنات میں آیا اسے واپس جانا ہی ہے، مگر ایسے نفوس معدود ے چند ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں انجمن، ایک محفل اور ایک ادارہ ہوتے ہیں، بلکہ اگریہ کہاجائے تو بے جانہ ہو گا کہ ایسے نفوس اپنی ذات میں علم وعمل کاا یک جہان اور اخلاق وہدایت کی ایک دنیا بسائے ہوتے ہیں، اور ان کے اٹھ جانے سے ایک فرد کی ہی کمی نہیں ہوتی بلکہ پوری سبھا ہی اجڑ جاتی ہے۔ ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک قرن کا اختتام ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد کا دنیا سے کوچ کرجانا سیکڑوں، ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں انسانوں کے دنیا سے چلے جانے سے زیادہ باعث ضیاع وزیاں ہوتا ہے

اسی طرح مرشد گرامی حضرت ؒ کا داعی اجل کو لبیک کہنا ہم سب کے لیے ایک اجتماعی، ملی اور عظیم دینی صدمہ ہے مگر خود ان کے حق میں ایسی ترقی، ایسی رفعت وبلندی اور ایسی نعمت ہے کہ اگر اس دنیا میں اس کا مشاہدہ ہو جائے تو اس کے اشتیاق میں ایک ایک لمحہ کاٹنا مشکل ہو جائے اوریہاں جینے کی آرزو باقی نہ رہے۔ حضرت کے انتقال سے نہ صرف ملک ہندوستان بلکہ عالم اسلام ایک رہبرشریعت وسنت اور عالم باعمل سے محروم ہوگیا ہے ۔ جو جانتے نہیں، انہیں تو بتانا کیا اور جو نہیں جانتے، انہیں کیسے بتایا اور باورکرایا جائے کہ اس ایک ذات سے محروم ہوکر ہم کس نعمت سے محروم ہوگئے ہیں۔

آہ! وہ سلف صالحین کی چلتی پھرتی یادگار، وہ مجسمہ زہدو ایثار ، وہ پیکر تقدس اور وہ کوہ استقامت اب ہم کہاں دیکھ پائیں گے جسے دیکھ کر ایمان کے بجھے ہوئے ذرات میں چمک اور تازگی پیدا ہوتی تھی، جس کا قرب پا کر دلوں میں ذوق عمل اور تعلق باللہ کی امنگ بیدار ہو جاتی تھی، جس نے اس دور انحطاط میں ہر طرح کے مواقع کے باوجود زہد وایثار ہی کو اپنی اصلی دولت سمجھا، جس نے گوشہ خلوت میں بیٹھ کر نہیں بلکہ کارزار حیات کے ان میدانوں میں رہ کر اپنے دامن تقدس کو بے داغ رکھا بڑے بڑے مجاہدات کے ذریعے امت کے جہل کو دور کرنے کی حتی المقدور کوششیں کی نا مناسب فضا میں پیادہ اسفار کے ذریعے مکاتب قرآنیہ کا جال بچھایا ہزاروں بھٹکے ہوئے راہ کو پاکیزہ صحبت و مشفقانہ تربیت کے ذریعے تعلیمات اسلام پر گامزن فرمایا

قارئین کرام یقیناً سرپرست محترم کا دینی علمی اصلاحی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع تر ہے کہ چند سطور میں رقمطراز نہیں کیا جاسکتا جسکی ترجمانی غالب کے اس شعر سے ہوتی ہے کہ

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

امید کہ حضرت مرحوم ومغفور کی علمی،خانقاہی اصلاحی خدمات اور کارناموں کو نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ علما، طلبا اور متعلقین و محبین سبھی رہتی دنیا تک حضرت مرحوم ومغفور کے ممنون ومشکور رہیںگے۔

دعا ہے کہ اللہ کریم حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس فیض کو تاقیامت جاری وساری رکھیں کہ آپ جیسے بلند ہمت وحوصلہ صاحب علم وکمال روحانی اشخاص اس مبارک مشن کی ترقی کیلۓ عطاء فرمائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے فرمائے اور ان کی لحد پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔

یہ ناکارہ اپنی جانب سے تمام خدام مدرسہ اعجاز العلوم کرن کی جانب سےآپکے اہل خانہ متعلقین و محبین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے کہ اس دکھ وغم میں ہم بھی برابر کے شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم ومغفور کے خانوادہ متعلقین کی عزتوں اور وجاہتوں میں مزید اضافہ فرمائے اور اس سانحہ کو برداشت کرنے کی سکت طاقت عطاء فرمائے آمین

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

✍️سید رضوان موسیٰ نعمانی خادم مکاتب قرآنیہ مدرسہ اعجاز العلوم کرن مہاراشٹر

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading