لاہور ، 04 مئی (ایجنسیز) پاکستان کے کرکٹر شاہد آفریدی نے اپنے کیریر کی تیز ترین سنچری ہندستان کے لیجنڈ بلے باز سچن تندولکر کے بہترین بیٹ کے ساتھ بنائی تھی۔
یہ بیٹ ان تک کیسے پہنچا؟ اس کا جواب شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ کتاب میں ایک جگہ انہوں نے تحریر کیا کہ ”نیروبی میں اس روز سعید انور اور سلیم الہٰی اوپننگ کرنے گئے اور 60کے ا سکور پر سلیم الہٰی آؤٹ ہو گئے، ان کے بعد تیسرے نمبر پر میں بیٹنگ کے لیے گیا اور میرے ہاتھ میں جو بیٹ تھا وہ کسی اور کا نہیں بلکہ سچن تندولکر کا بیٹ تھا۔
آفریدی کے مطابق سچن تندولکر نے یہ بیٹ وقار یونس کو دیا تھا اور ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بیٹ کو سیالکوٹ لے جائیں اور وہاں سے اس جیسا ایک بیٹ بنوا کران کے لیے لائیں۔
سیالکوٹ اسپورٹس کی مصنوعات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، چنانچہ سچن بھی وہاں سے بیٹ بنوانا چاہتے تھے۔ وقار یونس نے ان سے بیٹ لے لیا اور جب میں سلیم الہٰی کے آؤٹ ہونے کے بعد بیٹنگ کے لیے جانے لگا تو انہوں نے تندولکر کا وہ بیٹ مجھے دے دیا۔ میں نے جا کر پہلی بال روکی اوردوسری پر چھکا دے مارا۔ اس کے بعد مجھے نہیں یاد کہ کیا ہوتا رہا۔ میرے سامنے جو بال جس طرح آتی میں اسے میرٹ پر کھیل رہا تھا۔ جو بال ہٹ کے قابل ہوتی، میں اس کے ساتھ وہی سلوک کرتا جا رہا تھا۔
شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں کئی تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایسا ہی ایک انکشاف پاکستانی کرکٹر کے ویسٹ انڈیز میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی تعلق اور شاہد آفریدی کی جھوٹی گواہی سے متعلق ہے۔