آسٹریلیا میں مقیم وہ جوڑا جس کی شادی انڈیا پاکستان کرکٹ سیریز کے ویزا پر ہوئی

لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے عالی اقبال نے آج تک انڈیا کا جو بھی میچ گراؤنڈ میں جا کر دیکھا، اس میں جیت انڈیا کی ہوئی اور گذشتہ روز بھی ان کی خوش قسمتی کا یہ تسلسل قائم رہا۔

تاہم اس وقت کراچی سے تعلق رکھنے والی ان کی اہلیہ قرۃ العین نے شاید انھیں کم سے کم دو روز کے لیے واٹس ایپ پر بلاک کر دیا ہو کیونکہ سنہ 2015 کے انڈیا پاکستان میچ کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔

ایڈیلیڈ میں ہونے والے اس میچ میں عینی اور ان کے بیٹے کو سٹینڈ چھوڑ کر اس وقت جانا پڑا تھا جب پاکستان کی بری پرفارمنس اور انڈین شائقین بشمول ان کے شوہر کی خوشی انھیں ’ناگوار‘ گزرنے لگی تھی۔

عینی بتاتی ہیں کہ ’ویسے تو آپ ہر وقت دعا کرتے ہیں کہ اللہ انھیں خوش رکھے لیکن ان کی یہ والی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔‘

انڈیا پاکستان کا میچ جب بھی ہو اور جہاں بھی کھیلا جائے دونوں اطراف سے شائقین کے جذبات ویسے ہی عروج پر ہوتے ہیں لیکن جب ایک گھر میں شوہر کا تعلق انڈیا اور بیوی کا پاکستان سے ہو تو سوچیں کیا صورتحال ہوتی ہو گی۔

عالی جب کبھی گھر پر انڈیا پاکستان میچ دیکھیں اور انڈین بلے باز چوکے چھکے لگانا شروع کریں تو ’وہیں سے ماحول میں کافی تناؤ آ جاتا ہے۔‘

تاہم عالی اور عینی کی کہانی میں انڈیا اور پاکستان صرف کرکٹ میچ تک ہی محدود نہیں بلکہ دونوں کے پہلی بار ملنے سے لے کر بارات پاکستان آنے تک ہر موڑ پر ہی کہیں انڈیا پاکستان تعلقات تو کہیں کرکٹ سیریز کا عمل دخل رہا۔

گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یہ فیملی آسٹریلیا میں مقیم ہے لیکن آج سے لگ بھگ 20 سال قبل ان کے لیے انڈیا اور پاکستان آنا جانا بھی بہت مشکل تھا۔
خط میں حال احوال پوچھتے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ پہلے امی، ابو پڑھیں گے‘
تقسیمِ ہندوستان کے دوران عینی اور عالی کا خاندان بھی انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا تھا تاہم بعد میں بھی دونوں اطراف سے آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔

عینی آٹھویں جماعت میں تھیں جب وہ پہلی بار لکھنؤ گئیں۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتی ہیں کہ ’پتا نہیں میں کیوں گئی تھی، ورنہ بچت ہو جاتی آج۔‘یہ 80 کی دہائی کی بات ہے جب ظاہر ہے آج کل کی طرح سوشل میڈیا نہیں تھا تو عالی اور عینی کے درمیان خط کے ذریعے بات چیت ہوتی تھی۔

ایسا خط جو پہلے ہی دو مہینے کے انتظار کے بعد پہنچتا، اسے پہلے عینی کے والدین پڑھتے اور پھر بالآخر یہ عینی کے پاس جاتا۔
عالی بتاتے ہیں کہ ’اس وقت بس خط میں حال احوال ہی پوچھ لیا کرتے تھے کیونکہ معلوم ہوتا تھا کہ پہلے امی اور پھر ابو پڑھیں گے۔‘

تاہم پھر انٹرنیٹ آنے کے بعد بات میسنجرز کے ذریعے ہونا شروع ہوئی اور دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی طے ہوئی۔

عینی بتاتی ہیں کہ ’میری اماں کہا کرتی تھیں کہ کہیں بھی شادی کریں گے انڈیا میں نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت مواصلات کے ذرائع کم تھے اور آنے جانے کے اعتبار سے بھی مشکلات تھیں۔‘

اس وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان فلائٹس بھی بذریعہ دبئی آیا کرتی تھیں اس لیے شادی کے انتظامات کے حوالے سے فلائٹس کے ساتھ ساتھ ویزا کے مسائل بھی تھے۔
پھر سنہ 2004 میں جب اس وقت کی انڈیا اور پاکستان حکومتوں کے درمیان حالات میں بہتری آنا شروع ہوئی تو ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا اعلان کیا گیا جسے ’دوستی سیریز‘ کا نام دیا گیا۔ انڈیا نے سنہ 2004 میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا اور اس دوران عالی اور ان کے خاندان کے لیے پاکستان آنے کی امید بنی۔

انھیں کراچی ون ڈے کے لیے 14 دن کا ویزہ ملا جس میں ان کے دوست اور خاندان کے دیگر افراد بھی کراچی آئے۔

عالی بتاتے ہیں کہ ’ہم اسی میچ کے ویزہ پر آئے، وہ میچ دیکھا، یہ بھی میرے ساتھ گئی تھیں۔ اس دوران ہم میچ سے بھی بہت لطف اندوز ہوئے اور میچ بھی انڈیا جیتا تھا تو کافی اچھا لگا تھا۔‘

اس پر عینی نے فوراً کہا کہ ’لیکن مجھے بہت برا لگا تھا، وہیں آپ کی بدقسمتی شروع ہو گئی تھی یہ بھی آپ یاد کر لیں۔‘عینی کے مطابق پاکستان انڈیا کا میچ ان کے گھر میں ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب سارے جذبات سامنے آ جاتے ہیں۔

’دشمن دشمن ہی لگنے لگتا ہے، سب بھول جاتے ہیں کہ آدمی کیسا ہے، بڑی تکلیف ہوتی ہے خوشی دیکھ کر اس وقت، ویسے تو آدمی دعائیں کرتا ہے کہ خوش رہیں لیکن یہ واحد موقع ہوتا ہے جب یہ خوش ہو رہے ہوتے ہیں تو مجھے بڑی جلن ہوتی ہے۔ میں سچ ہی بولوں گی۔‘

ادھر عالی کو کرکٹ سے بچپن سے لگاؤ تھا اور وہ فاسٹ بولنگ کیا کرتے تھے۔ اب بھی وہ نہ صرف انڈیا کے میچ بلکہ ایشز سیریز بھی دیکھنے جاتے ہیں اور کرکٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں چاہے ٹیم کوئی بھی ہو۔

تاہم گھر پر میچ دیکھتے وقت صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش میں انھیں کئی مرتبہ اپنی خوشی بھی چھپانی پڑتی ہے۔
تقسیم صرف عینی علی تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کے بچوں میں بھی اس حوالے سے سائیڈز لی جاتی ہیں۔

ان کے بیٹے پاکستان کی طرف ہوتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے جبکہ بیٹی والد کو سپورٹ کرتی ہیں کیونکہ وہ ان سے زیادہ قریب ہیں۔

تاہم اس دوران فیملی میں احترام کے رشتے کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ عینی بتاتی ہیں کہ انھیں اپنے بیٹے کو کبھی کبھی کہنا پڑتا ہے کہ ’اپنے والد کے ساتھ احترام سے پیش آؤ اور یہ نہ بھولو کہ ہم ایک ہی فیملی کا حصہ ہیں۔‘

  • محمد صہیب بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading