
اسرائیلی حکومت نے ایک انوکھا اعلان کیا ہے، اور اپنے دنیا بھر کے سو سے زائد سفارت خانے کو غیر معینہ مدت کےلیے بند کردیا ہے، آخر یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں اسرائیل نے ہڑتال کے طور پر سو سے زائد سفارت خانے کو مغلق کردیا ہے، اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس ہڑتال کا اعلان تیس ستمبر بروز بدھ کیا تھا۔
وزرات خارجہ نے یہ اعلان ٹویٹ کے ذریعے کیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ اعلان وزارت خارجہ اور اور وزرات خزانہ کے درمیان تنازعات کے مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ نے دفتر خارجہ کے اہلکاروں پر ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ”وزارت خارجہ کے اہلکاروں کو بھی عام اسرائیلی شہریوں کی طرح ٹیکس ادا کرنا چاہیے ۔ ہمیں افسوس ہے کہ اپنی ذاتی حیثیت بہتر بنانے کی کوشش میں وزارت خارجہ کے ملازموں نے ٹیکس ادا نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ غیر ممالک میں تعینات اسرائیلی اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔
اس اعلان کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے جرمنی اور امریکا سمیت دنیا بھر میں سفارت خانے کو ہڑتال کے مدنظر بند کیا گیا ہے۔
Due to the Israeli Finance Min. @Israel_MOF's breaching of longstanding agreements with @IsraelMFA employees, we are forced to close Israeli missions around the world AS OF TODAY, OCTOBER 30.
No consular services will be provided, entry into the missions will not be allowed
pic.twitter.com/f9Y47G8xEK
— Israel Foreign Ministry (@IsraelMFA) October 30, 2019
We’re on strike!
Due to the decision of the Israeli Ministry of Finance to breach understandings that were agreed upon and signed by them on July 21, 2019, we are forced to close the embassy. No consular services will be provided and no one will be allowed to enter the embassy. pic.twitter.com/sSrpuLJGMm— Elad Strohmayer (@EladStr) October 30, 2019
Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-