دور حاضر میں ووٹ وصولی کا انوکھا طریقہ رائج ہو چکا ہے. بس ہندو مسلم کرلو، مخالف پارٹی کو برا بھلا کہدو،رام مندر بابری مسجد چیخ لو، ایئر اسٹرائک کا گن گالو،لمبے لمبے دعوے کرلو،
جی ہوگئی بھومت کے ساتھ جیت کامیابی کے بعد جب ایسے لوگ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو عوام کو پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے. کبھی نوٹ بندی تو کبھی NRC تو کبھی CAA کا نفاذ ملک کا سربراہ کسی اینکر کے پوچھنے پر جواب دیتا ہے 15 لاکھ یہ تو بس ایک جملہ ہے ووٹ مانگنے کا ورنہ یہ غریب بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ نہ ان کے اکاونٹ میں پندرہ لاکھ آنے والا ہیں اور نہ ہم ڈالنے والے یہ ہےآج کے حکمراں کی کھوکھلی زبان
یہی ایک جھوٹ نہیں بلکہ اب تو
علی الاعلان بھی جھوٹ پر اتر آے ہیں
جو آپ رام لیلا میدان کے بھاشن سے خوب واقف ہیں
بچارے ان کے سمرتھک، دوسرے پر الزام تراشی کرتے کرتے خود اپنے وزیر اعظم کو ہی جھوٹا ثابت کر بیٹھے
ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دونوں باتیں بالکل درست ہیں
اے گودی میڈیاں کے ڈپیٹ میں آنے والے! ذرا صدق وکذب کا پارٹ ضرور اسڈیڈی کر کے آیا کرنا
کیون کہ اب قوم تمہارے جھانسے میں نہیں آنے والی
اب تو قوم میدان میں آچکی ہے اپنے ارادے پر مضبوط ہے
اس کا جیتا جاگتا ثبوت 18 دسمبر سے جاری شاہین باغ دہلی کا پر امن احتجاج ہے
اس قسم کے پرامن احتجاجات ملک بھر میں تمہارے یہ سیاہ قانون واپس لینے تک جاری رہیں گے انشاء اللہ،
تم جن کے نام پر ووٹ مانگتے ہو کبھی ان کے حال پر غور کیا؟
کیسے وہ زندگی گزار رہے ہیں؟
تمہارے اس سیاہ قانون نے کتنی عورتوں کو بیوہ کیا، کتنے غریبوں کو بے سہارا کیا
کتنے جوانوں کو اپنی جانوں کی قربانی دینے پر مجبور کردیا
اے ظالم حکمراں!
اب تو ہوش کے ناخن لے لے
ورنہ اس سے کہیں زیادہ مخالفت کے لیے تیار ہوجا
کیونکہ اب تمہارا یہ خدائی بول کہ تم ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو
تمہاری زبان سے اب اس قسم کی باتیں شوبھا نہیں دیتی

کیوں کہ تمہارے پاؤں تلے زمین کھسک چکی ہے پر امن ملک گیر احتجاج نے تمہیں گہرا اثر دیا ہے
کیوں کہ کبھی تو تم ٹویٹر پر ٹرینڈ چلا تے ہو
*اور تمہارے حصّے میں شکست کے علاوہ کچھ نہیں آتا*
تم نے گذشتہ کل مس کال سے سہارا لینے کی کوشش کی
لاکھوں کے مجمع میں نمبر ٹائپ کرایا
ہنسی آتی ہے تمہاری اس نادانی پر ،
میدان میں اترے اتنے سارے لوگوں کو تو تم نہیں دیکھ رہے ہو
مس کال تمہاری کیا حمایت کریگی
ذرا زمینی سطح پر آؤ اور دیکھو لوگوں کے احوال کیا ہے’
*تمہارے اس CAA اور NRC*
*نے لوگوں کا کیا براحال کیا ہے ،تمہارے اس قانون نے غریبوں کو سولی چومنے پر مجبور کیا*
آو ہم بتا تے ہیں زمینی احوال کیا ہے!
3 جنوری 2020 بروز جمعہ جب نماز جمعہ سے فارغ
ہوکرباہر نکلا تو فقیروں، مسکینوں کی ایک لمبی قطار لگی تھی کہ
اچانک راقم کی نظر ایک ضعیف پر جارکی
*جسکی آنکھوں میں نمی تھی پیشانی پڑ رنج وغم کا عکس تھا اور چہرے پر ادا سی چھائی ہوئی تھی*
انہیں دیکھ کر میرے قدم لرز گٙئے آنکھوں سے آنسوں بہ پڑے
میں نے ان سے دریافت کیا دادا جان! آپ کو کس چیز نے یہاں کھڑے ہونے اور لوگوں کے سامنے دست دراز کرنے پر مجبور کیا؟
بتایا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں، محنت ومزدوری کرکے زندگی گذار رہاتھا
کہ اچانک گذشتہ دنوں میرے جوان بیٹے کی موت واقع ہوگئی ہے
اب میرا کوئی سہارا نہیں رہا
باالآخر بچوں کی چیخ وپکار اور بھوک نے یہاں آنے پر مجبور کر دیا،
اس ضعیف کی یہ باتیں سن کر گویا عقل مایوف ہوگئی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا
سوچنے لگا یہ ظالم حکمراں عدل وانصاف اور نہ جانے کیسے کیسے بڑے بڑے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں
اور کامیابی کے بعد یہ کہہ کر نکل جاتے ہیں یہ تو بس ایک جملہ ہے ووٹ مانگنے کا،
یہ حکومت عدل وانصاف کے نام پر ہمیں تین طلاق اور بابری مسجد کی ناکامی کا تحفہ دیتی ہے
فقراء ومساکین کی کفالت تو کیا کرتا انہیں سڑکوں پر بھینک مانگنے پر مجبور کر دیتی ہیں
جبکہ نظامِ اسلام ضعیفوں، بوڑھوں اور بیواؤں کے آنسوں پونچھ کر بیت المال سے ان کیلے وظیفہ جاری کرتا ہے
تاکہ وہ بھی عزت کی زندگی گزاریں،
یہ ہے اسلامی نظام جو آج لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے،
راقم نے حسب استطاعت تعاون کیا
اور دکھے دل کے ساتھ واپس آگیا۔